IshqDarAzdawaj Complete Novelette by Anoosha Aarzoo
A new novel with old passion. Anoosha Aarzoo’s novels are mostly based on love and romance. This is one of the romantic novel she has written.
Genre: Love After Marriage, Love Triangle, Spiritual, Poetic, Fiction, Persian Poetry, Back to Allah, Romcom, Cousin Marriage, University Love.
Description: This is the story of marriage...
A marriage in which there was no love...This story is for all the people around me who made me realize how strong love is in marriage...This story is based on one of the most important and special signs revealed by Allah Ta'ala.I pray that every married couple can feel the love in their marriage and know that,
"Love in marriage is very strong"
یہ کہانی ہے نکاح کی…ایسے نکاح کی جس میں محبت نہیں تھی
Contact Author: Instagram.com/anoosha_mrafiq_official
Download Complete Novel
Complete PDF link
انتساب!
یہ
کہانی ہے نکاح کی…
ایسے
نکاح کی جس میں محبت نہیں تھی…
یہ
کہانی میرے اردگرد موجود تمام لوگوں کے نام ہے جن کی بدولت میں یہ جان سکی کہ نکاح
میں محبت کتنی مضبوط ہوتی ہے…
یہ
کہانی اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ نشانیوں میں سے ایک اہم اور خاص نشانی پر مبنی ہے۔
میری
دعا ہے کہ ہر شادی شدہ جوڑا اپنے نکاح میں موجود محبت کو محسوس کر سکے اور یہ جان
سکے کہ
”عشق در ازدواج بسیار قوی است“
والسلام
انوشہ
آرزو!
ایک
ضروری بات: (کہانی میں موجود تمام اشعار/غزلیں انوشہ آرزو کی خود لکھی گئی ہیں)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
"میں
آپ سے محبت کرتی ہوں"
اس نے اپنے سامنے کھڑے شخص کو اپنی ذات کا آئنہ جانا تھا۔ اس خوبرو شخص نے مصروف
سے انداز میں اسے دیکھا جو اس کے دیکھنے پر نثار نثار ہو رہی تھی۔
"میں کسی اور کو چاہتا ہوں" جواب بہت بے دردی سے دیا گیا تھا۔ اسکی نیلی
آنکھوں میں چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔ چمکتی آنکھوں میں کئی خواب ملیا میٹ ہوئے تھے۔
شکست خوردہ سی وہ اسکے بینچ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ مصروف تھا اور اس نے مروت کے نام
پر ایک نظر بھی دوبارہ نہیں ڈالی تھی۔
وہ اسکی بینچ سے دور یونی میں باغ کے ایک سبز زمینی حصے پر گھٹنوں میں سر دیے
بے آواز آنسو بہائے گئی۔ ٹوٹے خواب، بکھرے ارمان اور مردہ دل............ اللہ کسی
کو ایسے کرب سے نہ نوازے۔ وہ مستقل دعا کر رہی تھی۔ کاش کہ اس شخص کے دل میں کوئی
نرم کلی پھوٹ پڑے۔ مگر امتحانات سے پہلے یونی کا آخری دن اختتام کو پہنچ گیا، سب[1] چلے
گئے، وہ بھی چلا گیا.......
کب کے صحراؤں میں بھٹکے ہوئے ہیں ہم
دور کوئی جھیل نظر آئے تو دھوکا کیا ہے.....؟؟
٭٭٭٭٭٭
تین سال بعد
"امّی!
میں آج بھی اس سے محبت کرتی ہوں۔ میں کسی اور سے محبت نہیں کر پاؤں گی۔ میں کسی
اور سے شادی کر کے اسے بھی اس کرب کی آگ میں نہیں جھلسانا چاہتی۔" اس نے صاف
گوئی سے کام لیا۔ اچانک ہی اسکی آنکھوں میں تین برس پرانی یادیں جھلملانے لگی
تھیں۔ اس نے کرب سے آنکھیں بھینچ لیں۔ ردا آپا نے اسے افسوس سے دیکھا۔
"بیٹا!
کب تک ایک یاد کے پیچھے دوڑو گی؟ یادیں بس ایک چھلاوا ہوتی ہیں۔ انکے پیچھے بھاگنے
سے سوائے دکھ اور تکلیف کے کچھ نہیں ملتا۔" وہ اسکے قریب بیڈ پر بیٹھ گئیں
اور اسکے بالوں کو سہلانے لگیں۔"یہ پرچھائیاں ہوتی ہیں میرے بچے، اور
پرچھایاں بھلا کب کسی کی حقیقت بنتی ہیں۔ جو چلا گیا ہے وہ تمہارا نہیں تھا
کبھی..... اور جو مل رہا ہے وہ ہمیشہ سے تمہارا ہی تھا..... اور اسے تم اپنے ہاتھ
سے ہی گنوا سکتی ہو....... وہ خود کبھی تم سے الگ نہیں ہوگا۔" انہوں نے اسے
ہر حقیقت سے متعارف کرایا۔ مائیں کہاں اندھیروں میں تنہا کرتی ہیں اولاد کو، یہ تو
اولاد ہی ہوتی ہیں جو کسی غیر کی خاطر انہیں بے وقعت کر دیتی ہیں۔
"لیکن
میں اپنے دل کا کیا کروں۔ وہ کسی اور سے محبت کرنے پر راضی نہیں ہے امّاں!"
اس نے بھیگے لہجے میں آنسوؤں کے درمیان کہا۔
"اللہ
نے نکاح میں بڑی طاقت رکھی ہے میرے بچے!" انہوں نے اسکے آنسو اپنی شفقت سے
معطر انگلیوں سے صاف کیے اور دھیرے سے اسے اپنے بازوؤں کے حلقے میں چھپا لیا۔
٭٭٭٭٭٭
امروز از رقص لذت ببرید
(ہے آج رقصاں رونقیں)
امروز، یک تغییر جزئی وجود دارد
(ہے آج جھلمل قمقمیں)
او عروس است که گرسنگی کردہ است
(وہ سج گئی دلہن ہے جو)
امروز او نیز نگاہ خواھد کرد
(ہے آج وہ بھی نغمغیں)
اس نے سرخ رنگ کا کامدار لہنگا پہن رکھا تھا جس پر
چاندی سی چمکتی پھول نما کڑھائی ہوئی تھی۔ رولرز ہوئے بالوں کو چہرے کے ایک طرف
ڈالا ہوا تھا۔ دوپٹے کو سر پر ایسے سیٹ کیا تھا کہ پیشانی کی طرف کچھ بال جھلک رہے
تھے۔ وہ ایک مکمل دلہن لگ رہی تھی۔ آج اسکا نکاح تھا اور ساتھ ہی رخصتی بھی۔ اسکا
دل کہاں تھا یہ بات کوئی نہیں جانتا تھا..... شاید وہ خود بھی نہیں۔
وہ کمرے میں بیڈ کے ایک طرف بیٹھی تھی۔ اسکے پاؤں بیڈ سے نیچے جھول رہے تھے۔ مہندی
لگے ان ہاتھوں میں آج اسکا نام تھا جس سے اسے محبت نہیں تھی۔ وہ اپنی سرخ مہندی سے
بھری ہتھیلی کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔ وہ کیا چاہتی تھی اور کیا ہورہا تھا۔
محبت روگ دیتی ہے[2]
نگاہیں روک لیتی ہے
کبھی ممتاز کرتی ہے
کبھی آتش میں جھونک دیتی ہے
محبت روگ دیتی ہے
نگاہیں روک لیتی ہے
"کیا
آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"نکاح خواں نے دولہے سے پوچھا جو دلہن کا ماموں زاد
تھا۔
"جی، قبول ہے!" 'ارحم' نے اپنی 'حور' کو قبول کر لیا تھا۔ وہ اسکے سامنے
صوفے پر بیٹھے تھے۔ حور کی جھکی نظریں بھیگ گئی تھیں۔ اسے یقیناً کچھ یاد آیا تھا۔
اسکی آنکھوں کی چمک میں ہر چیز دھندلی ہوگئی۔
دور یونی کے باغ میں ایک بینچ پر وہ اسکے ساتھ بیٹھی ورق گردانی کر رہی تھی۔ اور
گاہے بہ گاہے اسے دیکھ رہی تھی جو اپنی کتاب کے صفحے پر کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔
"میں تمہیں کہوں کہ میں تمہیں قبول کر چکی ہوں تو؟" اس نے اس دنیا جہان
کے مصروف انسان کو آس سے دیکھا۔
"تو میں کہوں گا کہ تم مجھے.............."ساحر نے اسکی طرف گردن موڑی
جو آنکھوں میں ڈھیروں امید لیے اسے دیکھ رہی تھی۔"قبول نہیں ہو!" اس نے
اپنا ادھورا جملہ مکمل کیا اور جیسے اسے اسی کی نظروں میں گرا دیا۔ حور کی آنکھوں
میں ماند پڑتی چمک کو دیکھنے کے لیے وہ اب وہاں موجود نہیں تھا۔ وہ ایک بار پھر
اسے تنہا بینچ پر روتا چھوڑ کر اٹھ گیا تھا۔
سب نے ایک دوسرے کا منہ میٹھا کیا اور پھر حور کے پاس
ردا آپا آئیں۔
"حور!" یادوں کا طلسم ایک جھٹکے سے ٹوٹا۔
اس نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھائیں۔ انکے ہاتھ میں برفی کا ایک ٹکڑا تھا جو انہوں نے
اسکے متوجہ ہوتے ہی اسکے لبوں کی جانب بڑھایا تھا۔ اس نے کچھ دیر تاسف سے برفی کو
دیکھا اور پھر آنکھیں بند کر کے کھولیں۔ چند ننھے ننھے سے موتی اسکے رخسار پر لڑھک
گئے۔
کوئی ایسی بھی تو دوا کرو
مجھے اسکے غم سے نجات ہو
٭٭٭٭٭٭
وہ اپنے شوہر کے ساتھ گھر آئی تھی۔گھر۔ جو اب اسکا اپنا تھا۔ ماموں، مامی نے بہت
گرم جوشی سے اسکا استقبال کیا تھا۔ کمرے کے باہر ہی سارے کزنز نے ارحم کو روک لیا
تھا اور حور کے ساتھ اسکی دو ساتھی کزنز کمرے میں چلی گئی تھیں۔ ارحم کی نظروں نے
دروازہ بند ہونے تک اپنی حور کا پیچھا کیا تھا۔ اندر آنے کے بعد دونوں کزنز نے حور
کو بیڈ پر سلیقے سے بٹھا دیا اور خود حور کو تھوڑا بہت چھیڑ کر کمرے سے باہر چلی
گئیں۔ تب تک باہر موجود بقیہ چودھا لڑکے لڑکیوں کی فوج نے ارحم کو پوری طرح کنگال
کردیا تھا۔ وہ خوش تھا..... اور ا[3]تنا خوش تھا کہ آج اگر اس سے
کوئی اسکی پوری جائیداد بھی مانگ لیتا تو وہ خوشی سے دے دیتا....... مگر فی الوقت
وہ بیس ہزار روپیوں سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔
"فائنلی!"وہ
کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔ دروازہ مقفل کرنے کے بعد وہ قدم قدم چلتا اس تک آیا
اور دھیرے سے اسکے پاس بیٹھ گیا۔ کمرہ مکمل سرخ گلابوں سے سجا تھا اور مہک رہا
تھا۔ وہ سرخ لباس میں اپنے نام کا ہی عکس لگ رہی تھی، تو ارحم بھی کریم رنگ
شیروانی میں اپنی مثال آپ تھا۔ وہ اسے دیر تک دیکھتا رہا اور وہ اپنی گود میں رکھے
دونوں ہاتھوں کو۔ کچھ وقت گزرا تو اس نے اپنی جیب سے ایک سرخ ڈبہ نکالا اور اسے
کھولا۔ حور نے ذرا ترچھی نگاہ کر کے دیکھا۔ اس سرخ ڈبے میں ایک ڈائمنڈ کی انگوٹھی
چمک رہی تھی۔ حور کو ایک دم ہی کچھ یاد آیا تھا۔ انگوٹھی کی چمک میں ہر رنگ ماند
پڑ گیا۔اسکی روشنی ایسی پھیلی کے کمرے کی ہر چیز دھندلا گئی۔
(وقفہ
زمانی)
وہ یونی میں اپنی کلاس روم کی بینچ پر بیٹھی کتاب پر
نقش و نگار بنا رہی تھی جب اسکے قریب اس نے کسی کو بیٹھتے محسوس کیا اس نے نظر
پھیر کر دیکھا۔ وہ یونی میں اسکا سینئر تھا اور یہ اسکا خالی پیریڈ تھا۔ اس نے
نیلے رنگ کی ٹی-شرٹ پہن رکھی تھی اور اتفاق سے آج حور کی کُرتی کا رنگ بھی ہلکا
نیلا ہی تھا۔ ارحم نے اپنی بند مٹھی حور اور اسکی کتاب کے درمیان رکھی۔ حور نے اسے
ناسمجھی سے دیکھا۔
"کھولو!" اس نے اپنی بند مٹھی کی طرف آنکھ سے اشارہ کر کے کہا۔ حور نے
بند مٹھی کو نرمی سے کھولا اور حیران رہ گئی۔ وہاں ایک ڈائمنڈ جڑی انگوٹھی تھی۔ اس
نے اب کی بار سوالیہ نظریں اٹھائیں۔
"میری دلہن بنوگی؟"وہ اتنی معصومیت سے بچوں کی طرح پوچھ رہا تھا۔ یہ
پوچھتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دھنک کے سارے رنگ جگمگا رہے تھے۔ حور کے چہرے کا رنگ
بھک سے اڑ گیا۔
"یہ ممکن نہیں ہے....."وہ لمحے بھر کے لیے رکی۔ وہ انگوٹھی کو دیکھ رہی
تھی۔ اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جو ریجیکشن پر بھی مسکرا رہا تھا۔"تم
جانتے ہو میں ساحر کو پسند کرتی ہوں۔"یہ کہتے ہوئے اسکا دل بہت دکھا تھا۔
ارحم نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے اور پھرکچھ سوچ کر کہنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
"آئم سوری!" حور نے بہت تکلیف سے کہا۔
"ہم ہمیشہ اچھے دوست رہیں گے۔ گو کہ ابھی ہم اچھے دوست نہیں ہیں مگر اب بن
جائینگے۔"اس نے انگوٹھی جیب میں واپس ڈال دی تھی اور آخری جملہ کہتے ہوئے اس
نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ جسے حور نے جھلمل کرتی آنکھوں کے ساتھ تھام لیا۔ ارحم سادگی
سے مسکرادیا۔ اس [4]نے تکلیف کا اظہار نہیں کیا
تھا مگر دل میں اس ریجیکشن کے طوفان نے کیسی کھلبلی مچا رکھی تھی اسکا اندازہ حور
لگا سکتی تھی۔ ارحم کی چمکتی آنکھوں میں ماند پڑے رنگوں میں سرخ رنگ جھلملا رہا
تھا۔ اسکی سرخی میں چمکتے کھلتے گلابوں کا عکس تھا۔
(حال)
"مے
آئی؟"(کیا میں؟) اس نے انگوٹھی کو حور کے سامنے کیا اور ہاتھ آگے بڑھایا۔ حور
کسی خواب سے جاگی تھی اس نے ارحم کے ہاتھ میں انگوٹھی دیکھی اور پھر اسکے سوال پر
غور کیا۔ ایک آواز اسکے کان میں گونجی تھی۔"حور بیٹا!اب ارحم تمہارا شوہر ہے۔
وہ تمہارے بارے میں سب جانتے ہوئے بھی تم سے شادی کر رہا ہے۔ دنیا کی نظر میں
احسان کر رہا ہے۔ اسے کبھی یہ کہنے کا موقع مت دینا کہ اس نے تم سے شادی کر کے تم
پر احسان کیا ہے۔"ردا آپا نے اسکا ماتھا چوم کر کہا تھا۔ حور نے آرام سے اپنا
بایاں ہاتھ آگے کیا جسے ارحم نے بائیں ہاتھ میں تھام لیا اور دائیں ہاتھ سے اسے
انگھوٹھی پہنانے لگا۔ یہ عمل کرتے وقت وہ ارحم کے چہرے پر زمانوں کی خوشی دیکھ رہی
تھی۔ اسکے چہرے پر اس بچے کے جیسی خوشی تھی، جسکا من پسند کھویا ہوا کھلونا اچانک
اسے مل جائے اور وہ خوشی سے نہال ہو رہا ہو۔ ارحم کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی آج
اسکے پاس تھی۔ وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔
"جانتی
ہو حور! یہ انگوٹھی میں نے اس دن گھر آ کر کچن میں رکھے کوڑا دان میں ڈال دی
تھی۔"وہ ایک دم ہنس دیا۔ پھر گویا ہوا تو اسکی آنکھوں میں شرارت سی نمودار
ہوئی تھی۔"میں نے سوچا کہ اب یہ کبھی کام نہیں آئے گی، مگر نہ جانے کیسے یہ
امی کے جیولری باکس سے کل نکل آئی۔ میں حیران ہوگیا۔ پھر امی نے بتایا کے انہوں نے
یہ کوڑادان سے اسی دن نکال لی تھی اور سنبھال کر رکھ دی تھی۔ اسکے ساتھ کتنے ارمان
جڑے تھے میرے شاید انہیں اندازہ تھا۔"وہ لمحے بھر کے لیے رکا۔ حور اسے یک ٹک
دیکھ رہی تھی۔ وہ حیران تھی کہ اس شخص کی زبان پر شکوے کا 'ش' تک نہیں تھا۔ اور وہ
کیا کچھ سوچ کر آئی تھی کہ اسے ارحم کی کس کس بات کو کیسے کیسے سہنا ہوگا۔ کیا یہ
حقیقت تھی یا بس ایک خواب..... شاید ابھی امی کمرے میں آئیں اور مجھے اس حسین خواب
سے جگا دیں.....
"تم
سوچ نہیں سکتی کہ میری خوشی کی انتہا کیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے میں ساتویں آسمان پر
ہوں، اور دنیا مجھے س[5]ر اٹھا کر دیکھ رہی ہے اور
میں..............میں صرف تمہیں!"اس نے جھک کر اسکا ہاتھ چوما جو انگوٹھی
پہناتے وقت سے اس کے ہاتھ میں تھا۔ حور کو نہ جانے کیوں اسکا یہ اظہار، یہ اقرار،
یہ عمل....... بہت اچھا لگا تھا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بلش کرنے لگی۔
"حور!
تم میری زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت ہو.......!!!" اس نےاسکی پیشانی کو
اپنے لبوں سے چھوا تھا۔ حور کو لگا اسکی روح پھر سے جی اٹھی ہے۔ یہ لمس اتنا
پاکیزہ تھا۔ اس میں ایسا احترام تھا..... ایسی محبت تھی کہ اسکے دل کا ہر زخم جیسے
مندمل ہوگیا۔ جن زخموں کو وقت مندمل نہ کر سکا۔ اس ایک لمس نے انہیں ایسے بھر دیا
جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔
(وقفہ
زمانی)
ردا آپا نے اسے نکاح سے پہلے کہا تھا"جانتی ہو
حور! اللہ پاک قران میں کیا فرماتے ہیں؟ 'اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری
ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور
ہمدردی قائم کردی۔ یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں
ہیں(سورہ روم؛ آیت # 21)' جانتی ہو غور طلب بات کیا ہے؟"اس نے نفی میں گردن
ہلائی تھی۔
"میں
بتاتی ہوں۔ دیکھو! عام طور پر نکاح سے پہلے میاں بیوی الگ الگ ماحول میں پرورش
پاتے ہیں، لیکن نکاح کے بعد ان میں ایسا گہرا رشتہ قائم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے
پچھلے طرز زندگی کو خیر باد کہہ کر ایک دوسرے کے ہو رہتے ہیں۔ ہاں حور! یہ حقیقت
ہے۔ ان کے درمیان یک بیک وہ محبت پیدا ہوجاتی ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا مشکل
ہوجاتا ہے، جوانی میں انکے درمیان محبت کا جوش ہوتا ہے اور بڑھاپے میں..... بڑھاپے
میں اس پر رحمت اور ہمدردی کا اضافہ ہو جاتا ہے..... بیٹا! تم ابھی سوچ رہی ہو کہ
کیسے شادی نبھاؤگی پر تم نہیں جانتی کہ نکاح میں کتنی طاقت ہے۔ جو فریضہ اللہ کی
نشانیوں میں سے ہے اس کی مضبوطی بھی پھر اسی کی طرف سے ہوگی نا۔"
(حال)
وہ اس وقت ان سب باتوں کو کتابی باتیں سمجھ رہی تھی۔
اسے لگ رہا تھا کہ اگر ایسا ہوتا بھی ہوگا تو اس کے معاملے میں ایسا کچھ نہیں ہونے
والا۔ اسے لگتا تھا کہ کئیں سال تو وہ خود کو اس کے نام سے بھی نہیں جوڑ پائے گی
مگر اس وقت، اس لمحے، اسکے ساتھ یوں باتیں کرتے، اسکے لمس کو محسوس کرتے، اس نے
اپنی ہر سوچ کو منفی ہوتا پایا..... پہلے وہ اسکے نام سے جُڑی پھر اس کی بیوی بنی
اور اب اسکی روح میں مہکتے گلاب کی خوشبو کی طرح سرایت کر گئی.......امی ٹھیک کہتی
تھیں"عشق در ازدواج[6] بسیار
قوی است(نکاح میں محبت بہت مضبوط ہوتی ہے)"اب اس نے اسے اپنے بازوؤں کے حلقے
میں چھپا لیا تھا۔ اس کی سانسیں بے ترتیب تھیں۔ حور نے سوچا کہ یہ شخص اسکی محبت
میں ایسا پاگل تھا پھر بھی اسے کبھی زبردستی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کیوں اس
نے کبھی مرد ہونے کا فائدہ نہ اٹھایا یا میرے گھر والوں پر کبھی زور نہیں ڈالا؟
آخر اس نے کیسے کیا برداشت ہجر کے کٹھن فاصلوں کو؟ حور کی طرح وہ کیوں پیچھے نہیں
پڑ گیا اپنی محبت کے؟ شاید اس نے اپنے آپ کو قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑا ہو۔ شاید
اس نے محبت کو آزاد پرندہ تسلیم کر لیا ہو۔ جو حور کے لیے بہت مشکل تھا۔ آخر اس
شخص میں یہ ہمت کہاں سے آئی؟؟
"آج
بہت بڑا دن ہے....."وہ اس سے الگ ہوتے ہوئے بولا۔ اور اسکے ہاتھوں کو تھام لیا۔"میں
چاہتا ہوں زندگی کی اس نئی شروعات میں، ہم کچھ عہد لیں، ایک دوسرے سے..... تاکہ جب
کبھی ہم میں سے کوئی ایک بھی کمزور پڑے۔ دوسرا اسے اسکا عہد یاد دلا کر سنبھال
لے۔"وہ اسکے چہرے کو اپنی آنکھوں کے حصار میں لیے ہوئے تھا۔ وہ اک لمحے کے
لیے بھی پلک جھپکنا نہیں چاہتا تھا۔ کہیں وہ اسکی دسترس سے باہر نہ نکل جائے۔ کہیں
وہ اسے کھو نہ دے۔ عجیب بےچینی اور اضطراب کا عالم تھا۔ دور ہوں تو قرب کی تڑپ،
پاس ہوں تو کھودینے کا ڈر.....
"پہلا عہد میں لونگا" اس نے مسکرا کر کہا۔ حور کی آنکھیں حیا سے اٹھتی
نہ تھیں۔ مگر اسکے لبوں کی مسکراہٹ کنکھیوں سے خوب دیکھ رہی تھی۔ وہ اپنے شوہر کی
محبت پر نثار نثار ہورہی تھی۔
"ہممم۔ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم کبھی بھی اپنی مرضی
کے بغیر کسی بھی دباؤ یا جھجھک کا شکار ہو کر کسی بات پر راضی نہیں ہوگی۔ چاہے کچھ
ہوجائے اپنا دل کبھی نہیں مارو گی۔!" اس نے گویا خود محبت کا پہلا عہد لیا کہ
وہ اس جدید زمانے کی حسین حور کو کبھی اپنا دل مارنے نہیں دے گا۔ حور نظریں نہیں
اٹھا رہی تھی۔ اس میں ہمت نہیں تھی۔ اس شخص کی آنکھوں میں دیکھنے کی جسے اس نے ایک
ایسے شخص کے لیے انکار کیا تھا جس نے اسے کبھی قبول نہیں کیا تھا۔ ارحم نے اس کی
ٹھوڑی کو ایک انگلی سے اٹھایا۔ حیا سے اسکی آنکھیں جھکی جھکی سی اٹھیں۔ وہ اسکی
حیا سے ایسا محظوظ ہورہا تھا کہ بس اسے دیکھے گیا۔ حور کچھ مزید جُزبُز سی ہوئی۔
"اب تم لو۔"
"تمہیں زندگی میں کبھی......."وہ شرم سے کچھ کہہ بھی نہیں پا رہی تھی۔
وہ اپنا آدھا جملہ کہہ کر آگے بڑھی اور اس کے سینے پر سر رکھ دیا..... کیسے کہے۔؟
ارحم کو لگ رہا تھا اسکی سانسیں بے ربط ہورہی ہیں۔ آج اسکے سینے پر محبت کا بوجھ
تھا۔ ہاں محبت بوجھ نہیں ہوتی مگر دل کی دھڑکنوں کو چھیڑ دیتی۔ ایک بار جو چِھڑ جائے
تو دھڑکنوں کو سنبھلنے میں بڑا وقت لگ جاتا ہے۔ یہ کیسا تعلق تھا وہ تو سوچ بھی
نہیں سکتی تھی کسی اور کے بارے میں، اور یہ کیا؟ وہ کسی کے سینے سے لگی تھی.......
یہ کیسا رشتہ تھا؟ لمحوں میں جذبات کی لہر دوڑا دی تھی..... کہاں سے آئی تھی اسکے
دل میں یہ جگہ.......؟؟
"عشق در ازدواج بسیار قوی است"
"کبھی۔ میری کوئی بات بُری لگے ..... تو تم مجھے بتاؤ گے....... مجھے احساس
دلاؤ گے۔"وہ رک رک کر کہہ رہی تھی..... اسکے احساسات نے اس کے لفظوں کو بھی
متاثر کیا تھا.......
"ٹھیک ہے....." وہ رکا۔"اور تمھیں بھی اگر کبھی میری کوئی بات
ناگوار گزرے گی۔ تو تم مجھ سے کہو گی۔ پر میں کہنے کا کہہ رہا ہوں..... غصہ کرنے
کا نہیں"آخری جملہ اس نے بہت دھیمی آواز میں کہا تھا اور کچھ ڈرتے ہوئے بھی۔
حور اسکی بات پر اس سے ایک دم الگ ہوئی۔ اور اسے حیرانی سے دیکھا۔اسکے اس انداز پر
بھی ارحم کو پیار آیا تھا۔ وہ دھیما سا مسکرایا۔ مگر حور تو جیسے اسکی بات پر ہی
اٹکی تھی۔ ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے کھا جائے گی۔
"میں نے کب غصہ کیا تم پر؟" وہ اسے کھا جانے والے انداز میں گھور رہی
تھی۔ ارحم نے بہت مہارت سے بے اختیار امڈ آنے والی مسکراہٹ کو ضبط کیا اور بہت
سنجیدگی سے بولا۔
"کب نہیں کیا؟" وہ بہت محظوظ ہو رہا تھا اس کی ہر اک ادا سے۔ اور حور کے
تو سر پہ لگی تلوؤں پہ بجھی۔
"بکواس مت کرو ارحم! تم بھی جانتے ہو میں بہت نرم مزاج کی مالک ہوں میں کیسے
کر سکتی ہوں کسی پر غصہ؟" وہ شدید غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی۔ ارحم اسے
ہونقوں کی طرح دیکھ رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو کہ جو ابھی کر رہی ہو وہ کیا ہے؟ اس
کے اس طرح دیکھنے سے اسے اور طیش آیا۔ اس نے اپنے پیچھے پڑے تکیے سے دھڑا دھڑ
مارنا شروع کردیا۔ ارحم کو سنبھلنے کا وقت ہی نہیں ملا اور وہ بیڈ پر ہی لیٹ گیا
ہاتھ اٹھا کر ہنستے ہوئے وہ بچنے کی بھرپور ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ارحم کے قہقہوں
سے وہ اور غصے میں آجاتی، ابھی وہ اٹھ کر اسے بخشنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ارحم نے
اسے کمر سے پکڑ کر بیڈ پر گرا دیا اور خود اس کے اوپر جھک گیا۔ لمحے بھر کی
کاروائی تھی مگر حور کے تو چودہ طبق روشن ہوگئے۔ وہ جیسے کسی خواب سے جاگی اور اسے
احساس ہوا کہ آج اس کی شادی کی پہلی رات ہے اور جسے وہ کزن سمجھ کر بچپنے میں دھو
رہی تھی وہ دراصل اس کا شوہر ہے۔ یہاں اسے حقیقت کا ادراک ہوا اور وہاں ارحم نے
اسے مزید گھبرا دیا۔ وہ اس پر مزید جھک گیا۔ حور کی تو سانسیں حلق میں ہی اٹک گئی
تھی۔ ارحم کی آنکھوں سے شرارت صاف جھلک رہی تھی۔ حور نے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ
رکھ دیے گویا وہ اسے کوئی بھی حرکت کرنے سے روکنے کے لیے پوری تیاری میں تھی۔ اس
کی اس حرکت پر ارحم کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ وہ مزید جز بز ہوئی۔
"کیا ہے ارحم؟ کیوں تنگ کر رہے ہو؟" وہ نروٹھے انداز میں بولی۔
"کیا مطلب کیوں تنگ کر رہے ہو؟"وہ شرارتی لہجے میں بولا۔ پھر رک کر
تھوڑا اس کے کان کے قریب ہو کر گویا ہوا۔ "اب تم میری بیوی ہو، تمہیں تنگ نہ
کروں تو کسے کروں؟" اس کی بات پر حور کے چہرے پر حیا کی سرخی تیر گئی۔ اس کے
چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر وہ اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اگلے ہی
لمحے حور کا جملہ اس کی سماعتوں سے ٹکرایا تو وہ حیران رہ گیا۔
"اسی کو جا کہ تنگ کرو نا جسے سارے فنکشن میں گھور گھور کر دیکھ رہے
تھے۔"اس کی ناک اک دم سرخ ہوگئی تھی۔ ارحم نے اپنی مسکراہٹ دبائی آنکھوں میں
شرارت ہنوز ناچ رہی تھی۔
"کون سی والی کی بات کر رہی ہو؟" وہ سوچنے کہ سے انداز میں بولا۔ حور کو
اپنا سر غصے سے گرم ہوتا محسوس ہوا۔ اس نے دو تین زوردار مکّے اس کے سینے میں جڑ
دیے۔ ارحم بنا رکے ہنستا چلا گیا۔
"کتنے بدتمیز ہو تم اپنی بیوی کے سامنے دوسری لڑکیوں کا ذکر کر رہے
ہو۔"حور اسے مارتے ہوئے غصے سے کہہ رہی تھی۔ ارحم بس ہنستا رہا۔ جب وہ تھک
گئی اور ہاتھ گرا دیے تو ارحم نے جھک کر اس کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کردی۔ اس
کا سارا غصہ بھک سے اڑ گیا اور ایک آسودہ سی مسکراہٹ نے چہرے کا احاطہ کر لیا۔
خوب اترا ہے وہ میرے دل کے گلشن میں
سارے پھولوں نے کِھل کے گواہی دی ہے
(انوشہ
آرزو)
٭٭٭٭٭٭
سورج کی ناچتی ہوئی کِرنیں کھڑکی کے شیشوں سے چھن کر اس
کی نیند کی دیوی کو بھگا رہی تھی۔ وہ نا محسوس طریقے سے اپنے اوپر موجود مضبوط
بازو کو جھنجوڑنے لگی۔ وہ آنکھیں میچے میچے اس کے نیم رخ پر جھکا اور اپنے ہونٹ اس
کے کان کی لو پر رکھ دیا اور ہنوز نیند کے سمندر میں غوطہ زن رہا۔ ایک طرف سورج کی
بے رحم کرنیں اور دوسری جانب وہ دشمنِ جاں جو اسے نیند میں بھی ستا رہا تھا، وہ
جھنجھلا کر اٹھ بیٹھی۔ اک دم ہوئے اس عمل سے ارحم بھی چونک کر اٹھ بیٹھا۔ وہ دونوں
اس وقت جوڑیدار رات کے کپڑوں(couple
night dress) میں موجود تھے۔ دونوں ہی ایک جیسے نقش و نگار والے تھے۔ ارحم نے
اسے غنودگی کے عالم میں اپنے بازوؤں کے
حلقے میں لے لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا سر حور کے ملائم ریشمی بالوں پر تھا
جو اس کے کندھے پہ ڈھلکے ہوئے تھے۔
"ارحم! مجھے سونا ہے یار خدا کے واسطے یہ پردے ڈالو کھڑکی پر۔"وہ مندی
مندی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے چڑ کر بولی۔ وہ کل کے فنکشن کی وجہ سے اتنی تھک
چکی تھی کہ اب اسے نیند خراب ہونے کی وجہ سے رونا آ رہا تھا۔ اس کی آواز میں موجود
نمی کو محسوس کرتے ہوئے ارحم کی آنکھیں پوری کھل گئی تھیں۔
"حور! میری جان تم رو رہی ہو؟" وہ بہت بے چینی سے بولا۔ حور نے مندی
مندی ہلکی نم آنکھیں اس کے چہرے کے آگے کی اور گیلی آواز میں بولی۔
"ہاں تو اور کیا؟ ایک تو سارا دن تیار ہو کر ادھر سے ادھر کرتے رہے سب مجھے
پھر جب یہاں آئی تو تم نے ساری رات مجھے جگائے رکھا (اس جملے پر ارحم کی آنکھیں
حیرت سے وا ہو گئی تھیں کیونکہ یہ حور کا ہی آئیڈیا تھا کہ تین تو بج گئے ہیں اب
فجر کی نماز پڑھ کر ہی سوئیں گے) اور اب یہ ظالم سورج بھی مجھے چین نہیں لینے دے
رہا۔ اوپر سے مجھے تو یہ سوچ سوچ کر رونا آ رہا ہے کہ ابھی کچھ گھنٹوں میں مجھے
پھر پارلر میں لے جا کر چھوڑ دیا جائے گا اور پھر کل کی طرح (سسکی) آج بھی سارا دن
مجھے تھکائیں گے۔" آخر میں وہ باقاعدہ آنسوؤں سے رونے لگی۔
"حور!" وہ تڑپ کر اس کی طرف بڑھا اور ہاتھوں کے پیالے میں اس کا معصوم
چہرہ لے لیا پھر انگوٹھے سے اس کے آنسوں صاف کرنے لگا۔ چہرے پر واضح سنجیدگی تھی۔
"اچھا میری بات سنو۔ تمہیں سونا ہے سو جاؤ۔ اور تمہارا جب دل کرے تب جانا
پارلر۔ ٹھیک ہے؟ کوئی تم سے زبردستی نہیں کرے گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔"وہ نرم
لہجے میں گویا تھا۔ حور نے دھیرے سے اپنی نم پلکوں کی جھالر اٹھائی۔ ارحم کو لگا
وہ بس ڈوبنے والا ہے ان آنکھوں میں۔ اس کی آنکھوں میں براہِ راست دیکھنا حور کے
لیے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں موجود محبت کے رنگ اسے پلکیں جھکانے
پر مجبور کر دیتے تھے۔ ارحم نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر مہرِ محبت ثبت کی اور
دھیرے سے اسے اس کی جگہ واپس لٹا دیا۔ وہ کسی مومی گڑیا کی طرح اس کے ہر عمل پر
خاموشی طاری کیے خود کو اس کے حوالے کر چکی تھی۔ وہ اٹھا اور دیوارگیر پردے قدآدم
کھڑکیوں پر برابر کیے کمرے میں مکمل اندھیرے کا راج تھا۔
٭٭٭٭٭٭
وہ دوپہر دو بجے کمرے سے باہر نکلی تو گھر میں ہر طرف شور برپا تھا۔ عجیب گہماگہمی
تھی۔ اس نے نظریں دوڑا کر ارحم کو ڈھونڈنا چاہا پر وہ اسے کہیں نظر نہ آیا۔
”وہ نظروں سے کیا اوجھل ہوئے
ہمیں دنیا سے خوف آنے لگا“
بڑے ہی درد بھرے لہجے میں کسی نے کان کے پاس سرگوشی کی تو وہ کرنٹ کھا کر پلٹی۔
وہی دشمنِ جاں کو پاس کھڑا دیکھا تو جان میں جان آئی۔
"محترمہ اب کھانا کھلا دیں بہت تیز بھوک لگی ہے۔"وہ جو ٹکٹکی باندھے
دیکھ رہی تھی اس کی دہائی پر فوراً سنبھلی۔
"یہ سب کیا ہو رہا ہے اتنے سارے لوگ یہ شور؟" اس نے دل میں مچلتے سوال
کو الفاظ دیے۔
"بیگم صاحبہ اگر آپ کو یاد ہو تو کل رات ہی ہماری شادی ہوئی ہے اور اتفاق سے
آج ہمارا ولیمہ ہے "اس نے شیرین لہجے میں گویا اسے تپانے کی بھرپور کوشش کی
جو کہ کارگر ثابت ہوئی۔
"تو؟ ہمارا ولیمہ ہے، پھر بیگانی شادی میں عبداللہ کیوں دیوانہ پھر رہا
ہے؟" اس نے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے کہا۔ ارحم بس اسے دیکھے گیا۔ یوں کہ
اگر نظر ہٹی تو کوئی اسے لے جائے گا۔ گہرے نیلے رنگ کے گھیر دار ریشمی فراک پر
ہلکے نیلے رنگ کا دوپٹہ اوڑھے بالوں کو کمر پر کھلا چھوڑے وہ بے حد حسین لگ رہی
تھی۔ کم سے کم ارحم تو دیوانوں کی کیفیت محسوس کر رہا تھا۔ وہ مسلسل اس کے ٹکٹکی
باندھ کر دیکھنے سے اب الجھ رہی تھی۔ وہ گھبرا کر مڑنے لگی جب ارحم نے اسے ہاتھ سے
کھینچ کر قریب کیا اور کان کے قریب جھک کر سرگوشی کی۔
"اس قدر خوبصورت سراپا ہے
کہو! ہم جان وار دیں تم پر؟"
ایسا مدھم لہجہ کہ حور کی قوتِ سماعت ہوا ہونے کو تھی۔ اعصاب شل ہونے کو بے تاب
تھے۔ وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں سنبھلتی خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرا گئی۔ مگر
یہ لب و لہجہ اس کے حواس بحال کرنے سے انکاری تھا۔
سارا دن پارلر میں تیار ہوتے، ہال میں اس کے ہم قدم چلتے ہوئے، وہ بس مستقل اس کے
حواسوں پر طاری رہا۔ اس کے جملے اسے حقیقت کا پتہ دیتے تھے۔ پر جو شعر اس نے پہلے
کہا تھا وہ اٹک گیا تھا اس کے دماغ میں۔ وہ واقعی پورے گھر میں صرف اسے تلاش رہی
تھی۔ جب وہ نظر نہ آیا تو وہ بہت پریشان بھی ہو گئی تھی۔ کیا اس کی والدہ کی باتیں
سچ ہو رہی تھیں؟ قریب کہیں اس کی والدہ کی آواز گونجی۔
"عشق در ازدواج بسیار قوی است"
ہال میں موجود ہر شخص کی نگاہ اس پر تھی۔ اس نے آنکھیں بند کر کے کھولیں اور دھیرے
سے اپنے سنہرے کلچ پر دھرے ایک ہاتھ کو اٹھایا اور ارحم کا ہاتھ تھام لیا جو اس کے
گھٹنے پر دھرا تھا۔ ارحم نے چونک کر اسے دیکھا جو گہرے جامنی رنگ کی میکسی (جس پر
ہلکی پھلکی سنہری کڑھائی ہوئی تھی) میں ہلکا میک اپ کیے سیدھا اس کے دل میں اتر
رہی تھی۔ اس نے غور کیا تو حور کی گھنی پلکوں پر ہلکی سی نمی محسوس کی۔ اس نے ہال
میں اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی مگر اس کی نگاہ اس کے خدشات کو منہ چڑاتی خالی ہاتھ
لوٹ آئی۔ ممکنہ بات رد ہوئی تو وہ اس کے قریب جھکا اور بہت دھیمے لہجے میں گویا
ہوا۔
"کیا ہوا میری حور کو؟" ارحم کے شہد لہجے پر حور کو مزید رونا آیا اور
پھر وہ گردن جھکا کے زاروقطار رونے لگی۔ اب ارحم حقیقتاً پریشان ہوگیا کہ آخر ایسا
کیا ہوا ہے جو حور کی یہ حالت ہے۔
"حور میری جان پلیز رونا بند کرو"وہ اپنی گھبراہٹ چھپاتا ہوا بولا۔ ایسا
ہی ہوتا تھا اس کے ساتھ وہ حور کو ذرا پریشان ہوتا دیکھ لیتا تو یونہی جان حلق میں
آجایا کرتی۔
"ارحم....... مجھے یہاں سے جانا ہے۔" وہ بمشکل ہی کہہ پائی تھی۔ ارحم
ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اٹھا اور اسے بھی اپنے ساتھ کھڑا کیا۔ اس کے اچانک ردعمل
پر حور سٹپٹا گئی تھی۔ وہ اسے لے کر سیڑھیاں اترنے لگا۔ وہ پورا منہ کھولے اسے
دیکھ رہی تھی جو اب پورے ہال کو اپنی طرف متوجہ کر چکا تھا۔ اسٹیج پر کھڑے ان
دونوں کے والدین بھی حیران تھے۔ مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔ وہ ایک الوداعی نگاہ گھر
والوں پر ڈالتا لوگوں کی چبھتی نظروں سے بے نیاز ہال کا بیرونی دروازہ عبور کر
گیا۔
٭٭٭٭٭٭
وہ سارے راستے کچھ نہیں بولا اور حور ابھی تک سکتے کی حالت میں اسے دیکھ رہی تھی
گویا یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ یہ سب حقیقت ہے۔ گھر پہنچتے ہی وہ اسے لے کر سیدھا
کمرے میں آیا۔ کل کی مناسبت سے آج کمرہ کافی سادہ تھا۔ گلاب کے پھولوں کا ایک
گلدستہ جو بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھا تھا ماسوائے اس کے کمرہ بلکل صاف شفاف تھا۔
وہ اسے قدم قدم چلاتا بستر تک لے آیا اور ہلکے سے شانے تھام کر اسے بٹھا دیا۔ حور
کا سکتہ تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔ چہرے پر
سوائے نرمی کے کوئی دوسرا تاثر نہیں تھا۔ اس نے بیٹھتے ہی حور کو اپنی طرف نرمی سے
کھینچا نتیجتاً حور اس کے سینے سے جا لگی۔ اور اس کی بے ترتیب دھڑکنیں ہموار ہونے
لگیں۔ اسے سکون مل رہا تھا۔ دنیا جہان کا سکون، جس کی اسے تلاش تھی۔
"اب بتاؤ کیا ہوا تھا؟" وہی دھیما متفکر لہجہ۔
"ارحم۔"اس نے بہت مدھم آواز میں اسے پکارا۔
"جی ارحم کی جان!" اس نے اسی انداز میں جواب دیا۔
"مجھے لگتا ہے۔ جیسے سب بہت جلدی ہو رہا ہے۔ میرا مطلب ہے کہ اتنی جلدی کیسے
ہو سکتا ہے۔ مطلب۔"وہ الجھی الجھی سی اسے مسکرانے پر مجبور کر رہی تھی۔
"کیا جلدی ہو رہا ہے؟" ارحم نے اس کی بات کاٹی۔
"پتہ نہیں۔"وہ ایک دم جھینپ گئی۔
"اب تو تم دامن نہیں چھڑا سکتی۔ اب تو بتانا پڑے گا۔"وہ مسکراتے ہوئے
بولا۔ وہ اب تک اس کے سینے سے لگی تھی۔ بلکل چھوٹے بچوں کی طرح۔
"وہ۔" اس نے کچھ کہنا چاہا پر کہہ نہیں پائی۔ چند لمحے وہ انتظار کرتا
رہا پر جب وہ نہ بولی تو دھیرے سے اسے خود سے الگ کیا اور اک حق جتاتا بوسا اس کے
دائیں رخسار کو سرخی دے گیا۔ وہ مزید جھینپ گئی۔ وہ شرم سے دوہری ہو رہی تھی۔ پر
وہاں پرواہ کسے تھی۔ وہ بائیں رخسار کی طرف بڑھنے لگا تو اسکا ارادہ بھانپ کر اس
نے اس کے سینے پر دونوں ہاتھوں سے زور دیا اور اسے شرارت کرنے سے روک دیا۔ ارحم نے
اپنی مسکراہٹ کا گلا گھونٹ دیا۔ اور انتہائی سنجیدگی سے بولا۔
"بیگم یہ کیا حرکت ہے؟" آواز میں گرج پیدا کرتا وہ حور کو ہنسنے پر
مجبور کر گیا۔ وہ اسے اچھی طرح جانتی تھی۔ اسے آوازیں بدلنے کا ہنر آتا تھا۔ اس کے
قہقہے کے ساتھ ارحم کا قہقہہ بھی گونج رہا تھا کہ موبائل کی آواز پر دونوں چونک
گئے۔ ارحم کے کورٹ کی جیب میں موجود موبائل چیخ رہا تھا۔ اس نے موبائل نکالا اور
سکرین پر اک سلگتی نگاہ ڈالتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ حور کو حیرت ہوئی پر وہ سر
جھٹکتی کپڑے تبدیل کرنے چلی گئی۔ کچھ دیر میں جب وہ باہر آئی تو ارحم صاحب کپڑے
تبدیل کیے کھڑکی کے پاس کھڑے تھے۔ دونوں نے وہی کَپل پاجاما پہن رکھا تھا۔
"ارحم!" اس نے ہولے سے پکارا اور بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔ اس کی آواز پر
وہ سوچ کے سمندر سے نکلا اور اسی کے ساتھ بیڈ پر نیم دراز ہوگیا۔
"کیا تم پریشان ہو؟" حور نے اس کے چہرے کے تاثرات پر سوال کیا۔ جس پر
پہلے تو وہ گڑبڑا گیا پھر قدرے سنبھل کے بولا۔
"بیوی! تم نے مجھے ابھی تک پوری بات نہیں بتائی۔" وہ اس کی توجہ خود پر
سے پوری طرح ہٹانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ حور کی پلکیں حیا سے لرزی تھیں۔ ارحم
اپنی مشکل بھول بھال کر اٹھ بیٹھا۔ ہائے یہ محبت اچھے بھلے انسان کو دیوانہ بنا
دیتی ہے۔
"ارحم وہ..... امی کی باتوں نے مجھے پریشان کر رکھا ہے۔ آخر سب اتنا جلدی
کیسے ہو سکتا ہے؟" حور نے جھکی نظروں کے ساتھ کہا۔ اس کے دونوں ہاتھ اس کی
گود میں تھے جسے وہ بیدردی سے مسل رہی تھی۔ ارحم آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ نرمی سے
اپنے ہاتھ میں لے لئے۔
"تم تھوڑی دیر پہلے بھی ایسا سب کہہ رہی تھی۔ چلو مجھے پوری بات بتاؤ۔ کوئی
ٹال مٹول نہیں۔"ارحم نے پیار سے اس کے ہاتھ سہلائے جو اس کے مسلنے کی وجہ سے
سرخ پڑ گئے تھے۔
"وہ ارحم..... دراصل امی کہتی ہیں کہ....."وہ پھر خاموش ہو گئی۔ اب کی
بار ارحم نے وارننگ دینے والے انداز میں اسے دیکھا اور ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے
قریب کیا۔
"وہ کہتی ہیں کہ عشق در ازدواج بسیار قوی است۔"بھنویں پریشانی سے چڑھائے
وہ ایک سانس میں کہہ گئی۔ ارحم نے دل ہی دل میں خود کو داد دی۔ دونوں کے درمیان
فاصلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔
"تو؟ تمہیں شک ہے اس بات پر؟" اس کا لہجہ سرگوشیانہ تھا۔
"ارحم....."حور نے آنکھیں موند لیں۔ جواباً ارحم نے اپنا سر اس کے سر سے
ٹکا دیا۔ وہ اس کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی۔
"میں آپ سے محبت کرنے لگی ہوں۔"وہ الفاظ نہیں تھے، سحر تھا۔ یہ سحر
پھونکنے والی ساحرہ اس کی ہمقدم ہمنوا تھی۔ ارحم کا دل دھڑکنا بھول چکا تھا۔ وہ
اسی پوزیشن میں بنا سانس لیے بیٹھا تھا۔ جب چند لمحے اس کی سانسیں محسوس نہ ہوئی
تو حور نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں۔ وہ واقعی سانس نہیں لے رہا تھا۔ حور نے اس کے دونوں
شانے تھام کر اسے جھنجھوڑ ڈالا۔ وہ ہوش میں آیا تو تھپڑ نے اس کا استقبال کیا۔
"کیا حرکت ہے یہ ارحم؟" کیا نہیں تھا حور کی آواز میں؟ تڑپ.....
فکر....... محبت....... بس اس سے آگے اگر وہ سوچتا تو ہمیشہ کے لیے سانسیں بند ہو
جاتیں۔ وہ اس کے لہجے پر مسکراتا اس کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو اگنور کر گیا اور
دھیرے سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ کتنے لمحے بعد اس میں بولنے کی ہمت پیدا ہوئی
تھی۔
"جان..... اگر ایسے صور پھونکو گی۔ تو بندہ مر ہی جائے گا نا۔ آئیندہ یہ
شرارت مت کرنا۔ ورنہ بیوہ ہو جاؤ گی" اس کا مسکراتا لہجہ اسے اور جلا گیا۔
حور نے اسے کمر پر زوردار دھپ رسید کی۔ جس پر ارحم کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
٭٭٭٭٭٭
فجر کی اذان کا وقت تھا۔ اس کے برابر میں پڑا وجود نیند کی وادیوں میں غوطہ زن ہوش
و خرد سے بیگانہ پڑا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی آغوش میں لیا
اور خمار آلود آواز میں اس کے کان کے پاس سرگوشی کی۔
"آئی لو یو وائف!" وہ ایسا ہی تھا۔ رات کے کسی بھی پہر وہ کروٹ بدلے
چاہے کسی غرض سے نیم بیدار ہو تو وہ اللّٰہ کی حمد و ثنا کے بعد یونہی اسے پیارے
جملوں کے ساتھ پکارتا تھا۔ پچھلے ایک ہفتے سے تو اس کی روح تک مسرور تھی۔ کتنا
سکون بخش ہوتا ہے نا چاہے جانے کا احساس۔ وہ بھی اس شخص سے جسے حاصل کرنا بھی کبھی
ناممکن لگا ہو۔ اس کے یوں اظہارِ محبت پر وہ گہری نیند میں بھی بے اختیار اس کے
شانوں کے درمیان سمٹ کے خود کو چھپا لیتی تھی۔ اب بھی یہی ہوا تھا۔
"حور میری جان! نماز پڑھنے کا ارادہ نہیں ہے کیا؟"اس نے اسے بڑے پیار سے
جگانے کی کوشش کی۔ وہ ہلتی جلتی ارحم کو مزید مضبوطی سے پکڑ کر سو گئی۔ ارحم کو
اندازہ تھا وہ روز ہی اٹھنے میں بہت نخرے کرتی تھی۔ اب اس نے آخری داؤ کھیلا۔
"جی امی اٹھا رہا ہوں اٹھ نہیں رہی۔" ارحم نے تیز آواز میں کہا تو حور
جھٹ سے اٹھ بیٹھی۔ اس کی اتنی افراتفری پر ارحم کا قہقہہ تو اپنی جگہ بجا تھا مگر
اگلے ہی لمحے حور نے تکیے سے اسے مارنا شروع کردیا تھا۔ اسی اثناء میں ارحم کا فون
بجا اور وہ سب چھوڑ چھوڑ کر بستر سے کود گیا۔ حور بھی کڑھتی ہوئی واشروم کی جانب
بڑھ گئی۔
نماز کے بعد ناشتہ اور پھر لان میں کچھ دیر کی ٹہل لگانے کے بعد جب وہ اندر آئی تو
سارے کزنز کہیں جانے کی تیاری میں تھے۔ سب اسے اللّٰہ حافظ کہتے نکل گئے اور ارحم
تو ناشتے کے بعد سے ہی غائب تھا۔ وہ غصے میں پیر پٹختی چھت پر چلی گئی۔
"اداس اداس سے پھر رہے ہیں
تجھے دیکھنے کو ترس رہے ہیں
تیرا دیدار ہو جائے جو ایک بار
تیرے سینے لگ جائیں بے اختیار"
وہ ارحم کی یاد میں شعر لکھ کر اسے بھیج چکی تھی۔ مگر جواب نہیں آیا۔ اس کا دل اور
برا ہوا۔ وہ بیزار سی سیڑھیاں پھلانگ رہی تھی جب دروازے پر ارحم کی گاڑی کا ہارن
بجا۔ حور کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ تیز تیز سیڑھیاں اترتی لاؤنج میں آئی اور بس ارحم
پر نگاہ پڑتے ہی بے اختیار اس کے گلے لگ گئی۔ ارحم حیران تھا مگر اس کے پیچھے کھڑا
وجود دنگ تھا۔ حور نے بہت مضبوطی سے اسے پکڑا ہوا تھا۔ ارحم نے اپنی ٹھوڑی اس کے
مہکتے بالوں سے سجے سر پر ٹکا دی۔ وہ اس وقت شہد رنگ فراک پر کھلے بال کمر پر
چھوڑے ہوئے تھی۔ جبکہ ارحم نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ لمحے سَرکے تو شکوے
شروع ہوئے۔
"بتائے بغیر کس عقلمند کی پیروی کرتے ہوئے غائب ہوئے تھے؟" حور اب بھی
دوسرے وجود سے انجان اس کے سینے میں منہ چھپائے ہوئے تھی۔
"میں جلدی میں نکل گیا تھا۔ معذرت خواہ ہوں." مسکراتے لہجے میں وہ اسے
رونے پر مجبور کر رہا تھا۔
"میسج کا جواب کیوں نہیں دیا؟" اب کی بار آواز میں نمی واضح تھی۔ ارحم
پریشان ہوا۔
"میری جان! ڈرائیونگ کر رہا تھا اور گھر کے قریب ہی تھا میں اس وجہ
سے....." وہ حور ہی کیا جو پوری بات سن لے۔ وہ جھٹ اس سے دور ہوئی اور بھیگا
چہرہ واضح ہوا۔ ارحم کی جان ہوا ہونے لگی۔
"تو بتا کر جانا چاہئیے تھا نا" وہ اب بھی خود کو ارحم کے ساتھ اکیلا ہی
سمجھ رہی تھی۔ ساحر کی طرف اب حور کی پیٹھ تھی۔
"اچھا نا بابا! غلطی ہوگئی۔"ارحم نے اس کا چہرہ نرم ہاتھوں سے صاف کیا۔
وہ خود بھی اب سنبھل چکی تھی۔
"اچھا کہاں گئے تھے؟" وہ اب خود کو کافی بہتر محسوس کر رہی تھی۔
"کزن کو لینے۔" ارحم نے سنجیدگی سے کہا۔ حور نے باقاعدہ اس کی سنجیدگی
محسوس کی۔
"تو کہاں ہے؟" حور نے لاؤنج کے دروازے کی طرف دیکھا۔ تبھی حور کے پیچھے
سے آواز بلند ہوئی۔
"اسلام علیکم!" اس آواز پر حور کو کرنٹ لگا تھا۔ مطلب وہ کب سے اس وجود
کی موجودگی سے لاعلم تھی۔ اس نے فوراً زبان دانتوں تلے دبائی۔ اور دھیمی آواز میں
بولی۔ "بتایا کیوں نہیں؟" جواباً ارحم نے کندھے اچکا دیے۔ جبکہ اس کے اس
ری ایکشن پر دوسرے وجود کو حیرت ہوئی کہ وہ اس
کی آواز تک پہچاننے سے انکاری تھی۔
حور خود کو کمپوز کرتی دھیرے سے مڑی اور اگلے وجود پر نگاہ پڑتے ہی چند لمحے حیران
رہ گئی۔ تبھی کچن سے مامی جان باہر آتی برآمد ہوئیں۔
"ارے ساحر بیٹا! تم کب آئے؟" وہ اسے دیکھتے ہی خوشگوار حیرت میں اس کے
گلے لگ گئیں۔ ساحر صاحب ارحم کی بڑی خالہ کی اکلوتی اولاد نکلی تھی۔ ارحم کے خدشات
کو غلط ثابت کرتی حور ہلکا سا مسکرائی اور سلام کر کے کچن کی جانب بڑھ گئی۔ ارحم
کو لگا کہ حور خود کو کمپوز کرنے کے لیے منظر سے غائب ہو گئی ہے ہمیشہ کی طرح مگر
اس بار بھی وہ ارحم کی سوچ کو غلط ثابت کرتی پانی کے گلاس ٹرے میں سجائے کچن سے
نکلتی دکھائی دی۔ جہاں ارحم حیران تھا وہیں ساحر بھی اسے مسکراتا اور پر سکون دیکھ
کر کچھ پریشان نظر آیا۔ ارحم اب مطمئن تھا۔ اس کے سارے ڈر ختم ہوگئے تھے۔
٭٭٭٭٭٭
ارحم اور ساحر کے رشتے کے بارے
میں حور اس لیے نہیں جانتی تھی کہ ساحر کی والدہ کی موت کے بعد وہ بلکل تنہائی
پسند ہو چکا تھا اور اس وقت وہ صرف بارہ سال کا، ارحم کا ہم عمر تھا۔ جبکہ حور دس
سال کی تھی۔ اور چونکہ دونوں خاندانوں میں اتنا ملنا جلنا نہیں ہوتا تھا تو حور
ساحر کے ارحم کے ساتھ رشتے سے انجان تھی۔ ساحر ویسے بھی اپنے ددھیال کے پاس رہتا
تھا جو امریکہ میں قیام پذیر تھے۔ یونی میں بھی وہ سب سے الگ تھلک رہتا تھا جس کی
وجہ سے ساحر بھی اس سے کچھ کھینچا کھینچا رہتا تھا۔ پھر یونی کے ختم ہوتے ہی وہ
واپس امریکہ چلا گیا جس کی وجہ سے وہ حور کی طرف سے بلکل لاعلم رہا۔
شادی سے پہلے جب ارحم نے اسے بلایا تو اس نے کام کا بہانا کر دیا۔ مگر ارحم کی
شادی ہوتے ہی یہاں اس کا کام پڑ گیا اور اب وہ یہاں زلزلوں کی زد میں بیٹھا تھا۔
وہ کیا سوچ کر آیا تھا اور یہاں کیا ہوگیا تھا۔
”میں آپ
سے محبت کرتی ہوں“ یونی کی بینچ پر اس کے روبرو بیٹھی وہ آنکھوں میں جگنو لیے اسے
دیکھ رہی تھی۔ کاش وہ ان آنکھوں کی چمک پر قربان ہو جاتا۔
"میں
تمہیں کہوں کہ میں تمہیں قبول کر چکی ہوں تو؟"
کاش وہ کہہ دیتا کہ اسے بھی وہ دل و جان سے قبول ہے۔
کیوں؟ آخر کیوں وہ صحیح وقت پر اسے اپنے وجود کا مان نہ بخش سکا؟ دکھ نہیں تھے
پچھتاوے تھے جو اس کی ذات سے چمٹ گئے تھے۔ وہ اپنے غرور میں بھول گیا تھا کہ محبت
نصیبوں والوں کو ملتی ہے۔ کون کتنا خوبصورت ہے محبت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اگر وہ خود کو مردانہ وجاہت کا کوئی شاہکار سمجھتا تھا تو وہ بت آج ٹوٹ گیا تھا۔
وہ انسان تھا اور آج اسے علم ہوا تھا کہ کتنا عام سا انسان تھا۔ یونی کی ہر لڑکی
جس دیو کے سامنے اپنا دل رکھ دیا کرتی تھی‘ حور نے اس دیو کی ساری خوش فہمیوں کے
بُت آج توڑ دیے تھے۔ چکنا چور کر دیئے تھے۔ اس کا غم بڑا تھا مگر اس ذلت کے آگے
کچھ نہیں تھا جو ایک لڑکی ہو کر حور نے اس کی محبت میں اٹھائی تھی...
کاش تو میرا ہو جاۓ
میں نام لوں تیرا لمحوں میں
تو ایک دم حاضر ہو جاۓ
کاش تو میرا ہو جاۓ
میں آنکھیں مِیچ کے کھولوں اور
تیرا چہرہ مجھ کو دکھ جاۓ
کاش کہ ایسا ہو جاۓ
کاش تو میرا ہو جاۓ
میں تیری راہ میں رک جاٶں
تو میری منزل ہو جاۓ
کاش کہ ایسا ہو جاۓ
کاش تو میرا ہو جاۓ
میں اپنے دل میں سوچوں اور
میں تیرے دل میں بس جاٶں
کاش کہ ایسا ہو جاۓ
کاش تو میرا ہو جاۓ
کاش کہ تیری آنکھوں میں
میں خواب بن کے ٹھہر جاٶں
کاش کہ ایسا ہو جاۓ
کاش تو میرا ہو جاۓ
جب کوٸ مجھ سے پوچھے تو
پہچان تو میری بن جاۓ
کاش کہ ایسا ہو جاۓ
کاش تو میرا ہو جاۓ
تو دیکھے مجھ کو ہر چہرے میں
میرے چہرے میں تو دکھ جاۓ
کاش کہ ایسا ہو جاۓ
کاش تو میرا ہو جاۓ
کاش کہ میری چاہت کا
تجھ کو الہام ہو جاۓ
کاش کہ ایسا ہو جاۓ
کاش تو میرا ہو جاۓ
انوشہ آرزو!
٭٭٭٭٭٭
رات کے کھانے پر سب موجود تھے۔ وہ کھانا کھا کر کمرے میں آئی تو ارحم کھڑکی کے پاس
کھڑا سگریٹ سلگا رہا تھا۔
"کس کے غم میں جل رہے ہو؟" وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی اور اس کے مقابل
آ کھڑی ہوئی۔ ارحم نے ہڑبڑا کر جلتی سگریٹ باہر پھینک دی۔
"پھینک کیوں دی؟ پیسوں کی آتی ہے یار۔ ختم کرنی چاہئیے تھی نا۔ جان کا کیا ہے
وہ تو ویسے بھی آج ہے کل نہیں ہے۔"اس کی مسکراہٹ کے ساتھ کیے گئے طنز پر وہ
مسکرایا۔ اس کی آنکھوں کی جلن اڑ گئی۔ چہرے کا سکون لوٹ آیا۔ اس کی مسکراہٹ پر حور
نے جل کر دانت پیسے اور گھوری سے نوازا۔
"جان تو تم ہو نا۔" اس نے محبت سے کہتے ہوئے اس کی کمر کے گرد بازو ڈالے
اور اسے قریب کیا۔ وہ ہلکا سا کھانستے ہوئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ چکی تھی۔
"تو ایسا کرتے ہیں میں بھی تمہارے ساتھ سگریٹ کے کش لگا لیتی ہوں۔ کیا خیال
ہے؟" اب ارحم کا منہ بنا تھا۔
"اچھا سوری، آئیندہ نہیں پیوں گا،پکا!" اس نے اس کے ماتھے پر عقیدت سے
پیار کیا۔
وقت زندگی کی کتاب کے صفحات پر قلم گھسیٹ رہا تھا۔ ان کی داستان امر ہونے کو بیتاب
تھی۔
"عشق سے عشق مجھ کو ہونے لگا
تجھے دیکھ کر میرا دل کھونے لگا
وقت کو میں نے وقت دیا تھمنے کو
وہ بے بسی سے چلتے دھیما ہونے لگا"
٭٭٭٭٭٭
"چھوڑو" وہ باہر جانے کے لیے دروازے کے قریب پہنچی ہی تھی کہ ارحم نے
اسے پکڑ لیا۔ اب وہ اس کے سینے سے لگی خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
"کیوں چھوڑوں؟" ارحم کا ارادہ اسے تنگ کرنے کا تھا۔ پر کسے پتہ تھا کہ
آج حور اسے تنگ کرنے والی ہے۔
"یہ جو تمہاری ناک ہے نا......." حور نے اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب
کیا اور اس کی ناک کو انگلی سے دبایا۔"یہ کافی لمبی ہے....." پھر اس پر
انگلی پھیرنے لگی۔ ارحم نے اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔ "اوہنہہ..... نہیں۔
بلکل سوٹ نہیں کر رہی..... مطلب.......۔ میری چھوٹی سی ناک کے ساتھ تو بلکل بھی ی
ی....... سوٹ نہیں کر رہی۔"
اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے اسے چڑانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔ جو خود اس کی بات
پر بے ساختہ مسکرا اٹھا۔
"میڈم آپ آج شرم کو کپڑوں کے ساتھ پیک کر چکی ہیں؟" اس نے بھرپور مشکوک
ہونے کا اظہار کیا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ مزید اسے تنگ کرتا حور نے اپنے ہاتھ
میں موجود اسکارف پن اس کے کندھے کے قریب چبھو دی اور وہ چیخ کر دو قدم پیچھے ہٹا۔
حور نے موقع غنیمت جانا اور دوڑ لگا دی۔ وہ پیچھے زور سے ہنس دیا۔
٭٭٭٭٭٭
وہ باہر آئی تو مامی جان ٹرے میں چائے کے ساتھ نمکین رکھ کر سیڑھیاں چڑھنے لگی
تھیں کہ حور نے پکارا۔
"مامی جان! آپ کو تکلیف ہوگی۔ کہیں تو میں دے آتی ہوں کسے دینا ہے؟"اس
کے شیرین لہجے پر انہوں نے کڑوا گھونٹ پیا اور ٹرے اسے تھماتی بولیں۔
"ساحر کو دے آؤ ٹیرس پر ہے۔"مختصراً کہتیں وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ
گئیں۔ اور وہ چپ چاپ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ اوپر پہنچی تو نظر ریلنگ سے ٹیک لگائے
ساحر پر پڑی جو کبھی اسے اپنے سحر میں جکڑے رکھتا تھا۔ اس کا دل بلکل خالی تھا۔ اس
نے کچھ محسوس نہیں کیا جبکہ ارحم کی غیر موجودگی پر ہمیشہ کی طرح دل برا ہو رہا
تھا۔
"چائے۔" اس نے لکڑی کے چھوٹے میز پر ٹرے رکھی اور جانے کے لیے مڑ گئی۔
"حور" کتنی تڑپ تھی اس آواز میں۔ کتنا چاہا تھا اس نے کبھی اس کی زبان
سے خود کا نام سننا۔ پر ابھی، اس لمحے اسے اپنا نام اس کی زبان سے زہر لگا تھا۔
اسے بے اختیار ارحم کا میٹھا لہجہ یاد آیا۔
"جی کہئیے!" اس نے بے لچک لہجے میں کہا۔ مگر وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا
تھا۔ جب سے وہ آیا تھا ایسے ہی اسے پکارتا تھا اور پھر خاموش ہو جاتا تھا۔ اور یہ
حرکتیں حور کو زہر لگ رہی تھیں۔ جب وہ کافی دیر تک کچھ نہ بولا تو حور کے چہرے پر
حد درجہ سنجیدگی چھا گئی۔
"کیا آپ کو کوئی کام ہے؟" اس نے حد درجہ سخت لہجے میں پوچھا۔ ساحر کو
یقین نہ آیا۔ وہ بڑے بڑے ڈگ بھرتا سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔ حور نے کندھے اچکائے
اور چائے کا بھانپ اڑاتا کپ اٹھا لیا۔ چند گھونٹ بھرے تھے کہ حلق میں کڑواہٹ سے
کانٹے چبھنے لگے۔ وہ سر جھٹک کر نیچے کی طرف بڑھ گئی۔ پیچھے ریلنگ سے نیچے جھانک
کر ملازم کو ٹرے اٹھانے کا کہہ چکی تھی۔ وہ نیچے آئی تو ساحر کو ارحم کے ساتھ صوفے
پر بیٹھا پایا۔ وہ بے نیازی سے چلتی گندے
سڑے منہ بناتی ارحم کے پاس پہنچی اور بے زاری سے بولی۔
"اس قدر کڑوی چائے ہے کہ زہر بھی بہتر ہوگا اس سے۔" اس نے کپ اس کی جانب
بڑھایا جسے ارحم نے تھام لیا۔ ساحر نے ایک چور نظر سرخ شلوار قمیض میں ملبوس اس بے
نیاز حور پر ڈالی۔
"نہیں۔ کہاں کڑوی ہے؟" ارحم نے معصومیت سے کہا۔ حور کے ماتھے پر بل پڑے۔
اس نے کپ اس کے ہاتھ سے لیا اور گھونٹ بھرا۔ ساحر ارحم کی شرارت سمجھ کر پہلو بدل
چکا تھا۔
"اتنی کڑوی تو ہے۔" حور نے بے تحاشا گندا منہ بناتے ہوئے کہا۔
"اچھا۔ دکھانا۔"اس نے معصوم بنتے ہوئے کہا۔ اور کپ سے ایک بڑا سا گھونٹ
بھرا۔ "مجھے تو بہت میٹھی لگ رہی ہے۔" اس نے مسکراہٹ دبائی۔ اب حور نے
اس کی آنکھوں پر غور کیا جہاں شرارت ناچ رہی تھی۔ وہ اسے گھوری سے نوازتی کچن کی
طرف بڑھ گئی۔ پیچھے ارحم کا فلک شگاف قہقہہ گونجا تھا۔ ساحر نے اپنی بے زاری
چھپائی۔
٭٭٭٭٭٭
سب کھانے کی میز پر بیٹھے تھے۔ کچھ دیر میں فارم ہاؤس کے لیے نکلنا تھا۔ چودہ کزنز
کی جو فوج شادی کی رات کو موجود تھی ان میں سے دو ہی ارحم کے ننھیال سے تھے۔ ولیمے
والی رات ددھیال سے تو کوئی نہ رکا تھا البتہ یہ سات لڑکے لڑکیاں رک گئے تھے جن
میں ساحر نے آ کر آٹھ کا ہندسہ مکمل کیا تھا۔
"میں یہ نہیں کھاؤں گی۔"سب نے حور کی طرف دیکھا جو جی بھر کر بدمزہ ہوتی
برے برے منہ بنا رہی تھی۔
"کھانے میں اتنے نخرے.....!" عاصم نے حیرت کی زیادتی دکھانے کی بھرپور
اداکاری کی۔
"ہاں تو جب نخرے اٹھانے والے ہوں تو بندہ نخرے کرتا ہی ہے۔ اس میں میری کیا
غلطی؟ کیوں ماموں؟"بڑی بے نیازی سے حور نے آنکھیں گھمائیں۔
"بلکل بھئی۔" ماموں جان نے پوری طرح تائید کی۔ البتہ مامی جان خاصی غیر
مطمئن نظر آ رہی تھیں۔
"قسم سے ارحم! تیرا یہ حال دیکھ کر نا میرا دل ہی اٹھ گیا ہے شادی سے۔"
عارف نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا۔
"بیٹا! یہ تو ظاہر سے گھبرا رہا ہے۔ اگر دل کے سکون کا پتہ لگ جائے نا تو کل
ہی بارات نکال لے گا۔"ارحم نے بھی بڑے پتے کی بات کی۔ سب مسکرا رہے تھے سوائے
ایک کے۔
"ہاں ہاں۔ کیوں نہیں.....؟ لیکن صرف اس صورت میں جب شادی محبوبہ سے ہو۔"
زیان کے محبوبہ کہنے پر جہاں سب نے ہوٹنگ کی وہیں حور شرم سے لال پیلی ہو گئی تھی۔
"ارے ارے! یہ شرماتی بھی ہے کیا؟" عاصم نے حیران ہونا چاہا۔ جس پر حور
نے اسے گھوری سے نوازا۔ ایک ہی ہفتے میں یہ سب حور سے بہت گھل مل گئے تھے۔
"ماموں! آپ اس بندر سے کہیں چپ ہو جائے ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔" مامی کو
ان کی بہن کے بیٹے کو بہو کا بندر کہنا ہضم نہ ہوا پر شوہر کے آگے پی گئیں کڑوا
گھونٹ۔ سب دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے جبکہ عاصم کا منہ بن گیا۔ اس نے مصنوعی خفگی سے
حور کو گھورا اور پلیٹ پر جھک گیا۔
"یار کہاں گئی تیری مردانگی، کنٹرول، رعب؟" عارف نے ارحم کی پرانی کسی
بات کا حوالہ دیا۔
"بھائی یہ رعب، کنٹرول یہ سب مشورہ دینے کے لیے ہوتا ہے عمل کے لیے
نہیں۔" ارحم نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا۔
"رہنے دے بھائی نہیں آنی اسے شرم۔ یہ زن مرید ہو چکا ہے۔" اس بار مامی
اور ساحر کے سوا سب ہنس دیے۔
خوشگوار ماحول میں کھانا ختم ہوا اور سب تیاریوں میں لگ گئے۔ آج انہیں فارم ہاؤس
کے لیے نکلنا تھا۔ جہاں انہوں نے دو دن آرام سے گزارنے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭
ارحم، ساحر، عارف، عاصم، زیان مل کر ایک ٹیم بنا چکے تھے۔ دوسری طرف حور، ثوبیا،
فروا، فائقہ اور دیبا مل کر ایک ٹیم بن گئیں۔ پھر شروع ہوا باسکٹ بال میچ۔ دونوں
ٹیموں نے میدان میں قدم جما لیے تھے۔ لڑکیوں نے بھی لڑکوں کی طرح مناسب ٹی-شرٹ اور
ساتھ جینز پہن رکھی تھی۔ ایک دوسرے کی طرف فقرے اچھالنے کا کام بخوبی انجام دیا جا
رہا تھا۔ ساحر کی نظریں بار بار حور پر پڑ رہی تھیں اور اسے گِھن آ رہی تھی۔ اب اس
کا صبر جواب دے گیا تھا۔ اس نے کھیل کے درمیان ہی رک کر غصے سے ارحم کو پکارا۔ سب
کے سب ہکّا بکّا اسے دیکھ رہے تھے جس کا چہرہ غصے کی زیادتی سے سرخ پڑ گیا تھا۔
"کیا ہوا حور؟" ارحم پسینے میں شرابور اس کی طرف بڑھا۔ سب لوگ ایک طرف
ہوگئے تاکہ انہیں بات کرنے میں مشکل نہ ہو۔
"ارحم اب بہت ہو گیا۔" اس قدر غصے میں اس سے بولا تک نہیں جا رہا تھا۔
اب اس کے آنسوں نکلنے والے تھے۔
"کیا بہت ہو گیا جان؟" اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔ حور کا لہجہ بتا رہا
تھا بات سنگین تھی۔
"اندر چلو بتاتی ہوں۔" وہ پھولے چہرے کے ساتھ گھر کے اندر کی جانب ہو
لی۔ سب پیچھے خاموشی سے گونگی فلم دیکھ رہے تھے۔ ساحر بھی کچھ کشمکش کا شکار تھا۔
"ہاں تو کہیے میری جان کہ کیا ہوا۔" حور کا غصہ ہمیشہ کی طرح وہ ٹھنڈا
کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
"ارحم۔!" اس نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
"بولو نا جان" اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے حور کو خود سے قریب کیا۔ وہ اسے
الجھانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ وہ اب شرم سے دوہری ہو رہی تھی۔
"میں سنجیدہ ہوں۔" حور نے دانت پیسے۔
"خون مت جلاؤ میری جان۔ اچھا بولو کیا بات ہے۔" وہ اس کی گھوری پر آخری
جملے پر سیدھا ہو گیا۔
"تمہارا وہ....... دو نمبر، گھٹیا، چھچھورا....... بد تمیز..... اور ایک نمبر
کا لوفر......."ابھی وہ اور بھی کچھ کہتی کہ ارحم کی صدمے سے نڈھال آواز اس
کے کانوں سے ٹکرائی۔
"بس یار....... کس کی بات کر رہی ہو؟" حیرت سے اسکی آنکھیں پھیل گئی
تھی۔
"وہی تمہارا ....... " وہ کچھ سخت کہتے کہتے رکی اور ارحم کی حیرت زدہ
آنکھوں میں دیکھا۔ "ارحم.....!" اس نے برا سا منہ بنایا۔
"کیا.......؟؟؟؟ میں؟؟؟؟؟" ارحم نے بھرپور اداکاری کی۔ جس پر حور نے اسے
دھپ رسید کی۔ وہ ہنستا چلا گیا۔ حور محترمہ سب بھول بھال کر اسے ہنستا دیکھتی
مسکرانے لگی۔ اس کی آنکھوں میں محبت کے جگنو جگمگانے لگے۔ ارحم نے اس کے ماتھے سے
اپنی پیشانی ٹکا دی۔ دونوں کی آنکھیں بند تھیں۔ حور زیرِ لب کچھ گنگنانے لگی۔ ارحم
نے غور کیا تو سنا،
"عشق در ازدواج بسیار قوی است
(نکاح میں محبت بہت مضبوط ہوتی ہے)
این موضوع خودخواهی است
(یہ اپنی ذات میں مبہوت ہوتی ہے)
عادت می کند که دلها را فتح کند
(دلوں کو فتح کرتی ہے یہ عادت ڈال دیتی ہے)
دو غریبه در رنگ، این رنگ است
(دو اجنبیوں کو اک رنگ میں،یہ رنگ دیتی ہے)"
ارحم
بے اختیار مسکرا اٹھا۔ اور اس کی پیشانی پر عقیدت سے بوسا دیا۔
"ارحم....... ساحر کی نظریں عجیب ہیں۔" اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔
ارحم کے ماتھے پر بل پڑے۔
"کیا اس نے تمہیں کچھ۔"وہ کہتے کہتے رک گیا۔
"نہیں بے وقوف....... ایسا کچھ نہیں کیا اس نے یار......." اس نے بے
زاری سے منہ بنایا تو اس کی معصومیت پر وہ مسکرا دیا۔
"اچھا ٹھیک ہے۔ تو تم کیا چاہتی ہو کیا کریں۔؟" ارحم نے سوالیہ نظروں سے
اسے دیکھا۔
"مجھے کیا پتہ..... ایسا کرو یہاں سے چلو اور مجھے کچھ دن امی کی طرف چھوڑ
دو۔ جب تک تمہارا کزن چلا نہیں جاتا۔" اس نے سمجھداری سے کہا تو مقابل نے
گھوری سے نوازا۔ ارحم نے اسے خود میں چھپا لیا اور بولا۔
"ہر گز نہیں..... بیوی تم مجھ سے بلکل فرار نہیں ہو سکتی۔"اس نے مصنوعی
خفگی سے کہا۔ تو حور نے اسے دھپ رسید کرتے خود سے الگ کیا۔
"ایک بات کہوں ارحم؟" بے تحاشا جزبات اس کی آواز میں شدت پیدا کر رہے
تھے اور آنسوؤں کا پھندا اس کے حلق میں پھنس گیا۔ آنکھیں بھیگنے لگیں۔ ارحم کی
آنکھیں بھی نم ہو رہی تھیں۔ ایک انجانا خوف پھر اس کے اندر جنم لینے لگا۔ جب ساحر
کے آنے کا اسے پتہ چلا تھا بس تب سے ہی اس کے اندر منفی سوچیں سر اٹھانے لگی تھیں۔
ہر بار اسے لگتا کہ کہیں حور اس سے ساحر نہ مانگ لے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اسے
کبھی ناں نہیں کر پائے گا اور ہاں کہنے کی صورت میں وہ اپنا سب کچھ ہار جائے گا۔
"ارحم....... (سسکی) پتہ ہے جب امی کہتی تھیں کہ نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے
حور..... (سسکی) آپ ایک انجان انسان کو کیسے اپنے سارے حق دے سکتے ہیں؟ میرے ہر
بار کے سوال پر امی کا ایک ہی جواب ہوتا تھا۔ اللّٰہ نے نکاح میں بڑی برکت رکھی
ہے۔ یہ اللّٰہ کی نشانیوں میں سے ہے....." وہ اب ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔
ارحم کے دل پر آندھی طوفان کا راج تھا۔
"ارحم۔ ارحم۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا..... نہ جانے ان تین جملوں میں ایسا کیا
تھا؟ کہ..... کہ میں نے اس لمحے سے آپ کو اپنا سب کچھ مان لیا۔ میرے دل نے .....
میرے دل نے کوئی زور آزمائی نہیں کی..... (سسکی) ارحم اللّٰہ بلکل حق کہتے ہیں کہ
ہو سکتا ہے ہم جس چیز کو اچھا سمجھیں وہ ہمارے حق میں برا ہو۔ بلکل ویسے ہی جسے
برا سمجھیں وہ بہت اچھا ہو..... " اس نے ارحم کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے
پیالے میں لے لیا۔ وہ شکر ادا کر رہی تھی اپنے رب کا۔ دونوں کی آنکھیں ایک طرح
بھیگ رہی تھیں۔ دونوں کے دل شکر سے بھرے تھے۔ دور کھڑا تنہا ساحر اپنے ہارے ہوئے
وجود کے ساتھ اپنی قسمت پر ماتم کرنے کو مجبور تھا۔
"میں نے خدا سے چاہا تھا
ایک ہمنوا کو مانگا تھا
ساحر نہیں ہو وہ کوئی
اِک رحم دل سا مانگا تھا
ساری ہوئی قبول میری
دعائیں جو عرش پہنچی تھیں
مانگا ادیب، شاعر تھا
حاصل رقیبِ ماہر تھا
کچھ اس کا مزاج شیریں ہیں
کچھ میں بھی شہد سی میٹھی
جو بن گیا مونس جاں
ایسا رفیق مانگا تھا
میں نے خدا سے چاہا تھا
اِک ہمنوا کو مانگا تھا.....!"
ختم شد۔!

Comments
Post a Comment