Gawah By Anoosha Muhammad Rafique Aarzoo
یہ ناولٹ ایک ایسے گواہ کے نام ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انسان کی محدود سوچ سے پرے، بہت آگے کہیں کی یہ بات ہے۔ ایک گواہ کی گواہی کا راز ہے۔ یہ ناولٹ ”ایس-پی میرین البلوشی“ کی ایمانداری اور وطنِ عزیز سے محبت کا اظہار ہے۔
یہ ناولٹ، یہ کہانی آپ کو خود اپنا تعارف کرئے گی۔ یہ کہانی خود بتائے گی کہ یہ کہانی کیوں لکھی گئی ہے۔
اور اسی کہانی کے ذریعے آپ ملیں گے انوشہ آرزو کے آنے والے نئے ناول کے کرداروں سے۔ ایک پٹھان ”نگین یوسفزئی“ اور ایک بلوچ ”میرین البلوشی“ کی انوکھی داستان آپ کی منتظر ہے۔
گواہ سے ایک جھلک:
”شکر ہے کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے۔ جب ثبوت اور گواہ ہی نہیں ہوں گے تو سزا کیسے ملے گی۔“ وہ استہزائیہ ہنسا، اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں اس کی سزا کا تعین بھی کر چکا ہے۔ زمین کے دو فٹ نیچے اپنے گناہ کے تمام ثبوت سمیت وہ اس گناہ کو بھی دفنا رہا تھا جو اس کے نزدیک گناہ نہیں بلکہ آزادی تھی۔ زندگی سے آزادی۔ ایسی زندگی سے آزادی جو اسی شخص کے باعث اس وجود کے لیے موت سے بدتر ہونے والی تھی۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ سب کر کے بھی وہ کوئی سزا نہیں پائے گا کیونکہ اس کے گناہ کا اس کے نزدیک کوئی گواہ نہیں تھا۔
جب انسان کو لگتا ہےکہ اسے گناہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا کوئی گواہ نہیں کوئی ثبوت پیچھے باقی نہیں تب اسی لمحے قدرت اس کی حماقت پر مسکراتی ہے کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی گناہ نہیں جس کا کوئی گواہ نہ ہو۔ قدرت وسیلے بناتی ہے، اسباب پیدا کرتی ہے اور انسان گھوم پھر کر اپنے گناہ کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں سے وہ بے خبر چلا ہوتا ہے اس بات سے کہ ان اللہ بصیر بالعباد (سورۃ فاطر: ۴۴)
گواہ
بقلم
انوشہ آرزو
Download Complete
انتباہ!
اس ناول کے جملہ حقوق AMRurdunovels کے پاس محفوظ ہیں۔ اس
کہانی کے کسی بھی حصے کو بغیر اجازت کہیں بھی شائع نہ کیا جائے اور کسی اور کے
ساتھ شیئر نہ کیا جائے۔ ایسا کرنے کی صورت میں قانونی کاروائی کی جائے گی۔
رابطہ:
mailto:anooshamrafiq1@gmail.com
Instagram/anoosha_mrafiq_official
website:
AMRurdunovels.blogspot.com
انتساب!
اس رب کے نام جو ہر چیز کا گواہ ہے۔ جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ جو ہر چیز، ہر بات کو دیکھ اور سن رہا ہے۔ جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ کہانی میری پیاری اور
بہترین سہیلی نگین شاہد یوسفزئی کے
نام! جس نے پچھلے سات سالوں سے میرا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہمیشہ میری حوصلہ افزائی
کی۔
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
رات کے
سناٹے میں بیلچے کے زمین پر زور زور سے لگنے کی آوازیں ماحول میں خوفناک تاثر
بکھیر رہی تھیں۔ ارد گرد شاخوں سے ٹوٹ کر گرے پتے ہوا کی ہلکی سی آہٹ پر بھی سرسرا
رہے تھے۔ شہر سے دور گھنے جنگل میں رات کی تاریکی کا یہ وقت کسی کی سسکیوں اور
آہوں کا گواہ تھا۔ اس وجود کے اندر پل پل مرتی زندگی کا گواہ اس کے بہت نزدیک تھا۔
پر شاید اس کی زندگی اتنی ہی لکھی تھی۔
”شکر ہے کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے۔ جب ثبوت اور گواہ ہی نہیں ہوں
گے تو سزا کیسے ملے گی۔“ وہ استہزائیہ ہنسا، اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے سن بھی
رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں اس کی سزا کا تعین بھی کر چکا
ہے۔ زمین کے دو فٹ نیچے اپنے گناہ کے تمام ثبوت سمیت وہ اس گناہ کو بھی دفنا رہا
تھا جو اس کے نزدیک گناہ نہیں بلکہ آزادی تھی۔ زندگی سے آزادی۔ ایسی زندگی سے
آزادی جو اسی شخص کے باعث اس وجود کے لیے موت سے بدتر ہونے والی تھی۔ اور اسے لگ
رہا تھا کہ یہ سب کر کے بھی وہ کوئی سزا نہیں پائے گا کیونکہ اس کے گناہ کا اس کے
نزدیک کوئی گواہ نہیں تھا۔
جب
انسان کو لگتا ہےکہ اسے گناہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا کوئی گواہ نہیں کوئی
ثبوت پیچھے باقی نہیں تب اسی لمحے قدرت اس کی حماقت پر مسکراتی ہے کیونکہ دنیا میں
ایسا کوئی گناہ نہیں جس کا کوئی گواہ نہ ہو۔ قدرت وسیلے بناتی ہے، اسباب پیدا کرتی
ہے اور انسان گھوم پھر کر اپنے گناہ کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں سے وہ بے خبر چلا ہوتا
ہے اس بات سے کہ ان اللہ بصیر بالعباد (سورۃ فاطر: ۴۴)
کراچی جیسے
بڑے اور مصروف ترین شہر میں دن کے وقت ہر طرف گہما گہمی ہی نظر آتی ہے۔ کسی مصروف
شاہراہ پر ٹریفک جام کی وجہ سے لوگ بے حال ہوتے کبھی کسی سے منہ ماری کرتے نظر آتے
تو کوئی گاڑی کے ہارن پر ہاتھ رکھ کر اٹھانا ہی بھول جاتا ہے۔ ایسی گہما گہمی اور
گرمی کے شدید زور کے باعث میں نے تو دن کے وقت گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا ہے لیکن
ہماری پیاری نگین کو شہر کی رونقیں دیکھنے کا ایسا جنون سوار ہوا کہ دن چڑھے ہی
رکشہ میں بیٹھ کر سڑکوں کی خاک چھاننے نکل پڑیں۔ اگر جو مجھ سے مشورہ کیا ہوتا تو
میں ضرور بتاتی کہ بہن یہ کراچی ہے کوئٹہ نہیں۔ پر خیر اب ہونی کو کون ٹال سکتا ہے
بلکل ویسے ہی جیسے نگین بی بی کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی
آئیے پہلے آپ سے نگین دی ناگن صاحبہ کا تعارف کرواتے ہیں۔
”بیٹا آگے بہت ٹریفک جام ہے یوں سمجھیں ایک ڈیڑھ گھنٹا کہیں نہیں
گیا۔“ ادھیڑ عمر رکشہ ڈرائیور نے پریشانی سے پیچھے بیٹھی لڑکی کو بیک ویو مرر سے
دیکھ کر سمجھانا چاہا جو پسینے سے شرابور بار بار چہرے پر لگا ماسک ہٹا کر پسینہ
صاف کرتی تو کبھی گہرے سانس لیتی سخت پریشان نظر آ رہی تھی۔
”انکل میں گھر سے اتنی آگے آ گئی ہوں اب آگے پیچھے دونوں جانب سے
راستہ بند ہے میں واپس جاؤں گی بھی تو کیسے؟“ گہرے نیلے رنگ کے ابائے پر سیاہ
اسکارف کے ہالے میں ماسک لگے چہرے سے محض اس کی سیاہ آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں جن
میں واضح بیزاری دیکھی جا سکتی تھی۔
”بیٹا آپ اس کی فکر نہ کرو میں آپ کو پیدل چھوڑ دیتا ہوں اس شاہراہ
سے پیچھے جہاں سے آپ دوسری رکشہ کروا کر واپس جا سکو گی۔“ ڈرائیور انکل کی بات سن
کر وہ چونکی۔ ہاں یہ تو کیا جا سکتا ہے۔
”ٹھیک ہے انکل آپ کا بہت سارا شکریہ“ یہ کہہ کر وہ رکشہ سے اتر گئی
ڈرائیور انکل بھی ساتھ ہو لیے۔ بہت مشکل سے پھنسی پھنسی گاڑیوں کے درمیان سے بچتے
بچاتے وہ شاہراہ سے نیچے اتر آئے اور دوسری رکشہ بھی انکل نے ہی کروا دی کہ نگین
ان کی بے حد مشکور ہوں گئی۔
گھر واپسی
پہنچی تو پہلے سے ہی انوشہ اس کے انتظار میں گھلتی ہوئی دروازے کے قریب مارچ کرتی
نظر آئی۔ وہ اسی سے فون پر محو گفتگو تھی یہ پوچھنے کہ اچانک کدھر چلی گئی جب اس
نے مختصر جواب دے کر اسے مزید پریشان کردیا کہ وہ ٹریفک جام کی وجہ سے اب واپس آ
رہی ہے پھر بتاتی ہے۔
جیسے ہی
رکشہ سے اتری تو انوشہ آگے بڑھ کر اس کے گلے لگی۔ نگین ایک دم ہڑبڑا گئی کہ اسے
کیا ہوگیا؟
”کیا ہوگیا انوشہ میں ٹھیک ہوں ٹریفک جام میں پھنسی تھی غنڈوں میں
نہیں جو ایسے پریشان ہو رہی ہو“ نگین نے شرارت سے کہا مگر پھر کمر پر زوردار تھپڑ
پڑتے ہی ہڑبڑا کر فوراً اس سے الگ ہوئی جو اب اسے لال بھبوکا چہرے کے ساتھ اسے تیز
نظروں سے گھور رہی تھی۔
”مجھے بتائے بغیر کسی خوشی میں نکلی تھی تم؟ شرم نہیں آتی میری فکر
کا مزاق اڑاتے ہوئے؟“ انتہائی غصے سے اسے ایک اور تھپڑ جڑتے وہ مستفسر ہوئی۔
”اچھا نا سوری معاف کر دو مارے جا رہی ہو کب سے۔ یہ بھی نہیں دیکھ
رہی کہ کتنی گرمی ہے اور میں پسینے میں نہائی ہوئی ہوں۔ بندہ کچھ خیال کر لیتا ہے۔
مہمان بھی ہوں میں۔“وہ ناک چڑھا کر خفا لہجے میں کہہ رہی تھی۔ انوشہ پہلے سے زیادہ
غصے سے اسے دیکھنے لگی۔
”تو مہمان کو بھی میزبان کا خیال کرنا چاہئیے کہ کم سے کم اسے بتا
کر ہی گھر سے نکلے۔ یہ نہیں ہوا کہ مجھ سے پوچھ ہی لیتیں کہ اس وقت کراچی کی سڑکیں
کیسا منظر پیش کرتی ہیں؟“وہ اور زیادہ خفا لہجے میں کہتی مڑ کر گھر کے اندر چلی
گئی اس کے چکر میں وہ خود عبایا پہن کر
باہر کھڑی تھی اور کراچی کی گرمی اس سے خود برداشت نہیں ہوتی تھی۔
”اچھا نا ناراض مت ہو سوری یار میں نے سوچا تھوڑا گھوم پھر کر دن
گزار کر آتی ہوں کراچی کی رونقیں دیکھ لوں گی تم تو نہ خود کہیں جاتی ہو نہ مجھے
لے کر جا رہی ہو۔ آج تیسرا دن ہے میرا کراچی میں اور ایک ہفتے بعد چاچو مجھے واپس
لے جائیں گے کوئٹہ۔ بیٹھی رہنا پھر میرے بغیر اور دیواروں سے کرنا باتیں۔“ نگین
انوشہ سے سخت نالاں نظر آ رہی تھی۔ کتنی ضد کر کے آئی تھی وہ کراچی چاچو کے ساتھ،
بابا اور امی نے تو صاف انکار کر دیا تھا کہ کالج کی چھٹیاں ہے جب تک یہاں بیٹھ کر
یونیورسٹی کے لیے تیاریاں کرو اور کچھ گھرداری بھی سیکھو۔ لیکن نگین بھی اپنے نام
کی ایک تھی بابا کو کسی طرحمنا کر چاچو کے ساتھ آ گئی اپنی دوست کے پاس جس سے ملنے
کا اسے سات سال سے اشتیاق تھا۔
”اچھا جیسے میں واقعی تمہیں لے کر کہیں نہیں جانے والی نا۔ ایسے ہی
اپنی ایک بات بتائی تھی کہ میں اکیلے نہیں نکلتی۔ کراچی بہت بھیڑ بھاڑ والا ہو گیا
ہے۔ مجھے کوفت ہوتی ہے اتنے شورشرابے سے۔ پر فکر مت کرو میں نے آج ہی بھائی سے کہا
ہے ہم مغرب کے بعد گرین بس سے کراچی کی رونقیں دیکھنے جائیں گے پھر وہاں سے تمہیں
کراچی کے بڑے مال بھی لے کر جاؤں گی۔ میں نے لائبہ سے بھی کہہ دیا ہے وہ اپنے گھر
سے سیدھا آ جائے گی لکی ون مال اس کے گھر
کے قریب پڑتا ہے“ کچھ خفگی سے کہتی ہوئی آخر میں چہک کر بتانے لگی۔
”سچ میں؟ لائبہ کے بھائی آنے دیں گے اسے؟“ نگین نے چہک کر پوچھا۔
کراچی میں اس کی دو ہی تو خاص سہیلیاں تھیں۔ ایک آپ کی معصوم سی مصنفہ انوشہ آرزو
اور دوسری لائبہ نور۔ تینوں انسٹاگرام سے ہی دوست بنی تھیں۔ اور تینوں کو ہی ناول
پڑھنے کا بے انتہا شوق تھا۔
”بلکل۔ اسکی فیملی مجھ پر بھروسہ کرتی ہے الحمدللہ!“ وہ احتیاط سے
دونوں کے لیے شربت کے گلاس بھرتی ہوئی کہنے لگی۔ لہجہ ہلکا پھلکا تھا مگر مسکراتا
ہوا۔
”چلو یہ تو اچھی بات ہے۔“ نگین نے مسکرا کر جواب دیا اور اس کے
ہاتھ سے شربت کا گلاس پکڑا۔ جب سے نگین آئی تھی وہ دونوں کچن میں گھسی کبھی کچھ تو
کبھی کچھ بنا رہی ہوتی تھیں۔ اس سے دونوں کی امّیاں بہت خوش تھیں۔
یہ کراچی کے
سب سے بڑے مال ”لکی ون“ کا منظر تھا۔ باہر سے عمارت جتنی پھیلی ہوئی نظر آتی تھی
اندر سے کہیں زیادہ وسیع اور خوبصورت تھی۔ وہ تینوں عبایا پہنے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کبھی کسی
دکان میں جاتی نظر آتیں تو کبھی کسی دکان سے نکلتے ہوئے۔ شکر تھا تینوں نے چہرے
ڈھکے ہوئے تھے ورنہ دانت نکال کر جس طرح وہ ہنس رہی تھیں کئی لوگ ان کی طرف متوجہ
ہوتے نظر آتے۔
”یار کتنا مزا آ رہا ہے نا! کتنا اچھا ہوتا ہم تینوں کے گھر قریب
قریب ہوتے اور ہم روز ملتے۔“ لائبہ نے حسرت سے کہا تو دونوں نے تائید میں سر
ہلایا۔
”کوئی بات نہیں۔ یہ بھی شکر ہے کہ ہم لوگ مل رہے ہیں۔ اللہ کا
احسان ہے ورنہ کتنا ترسے ہیں ہم ایک دوسرے سے ملنے کے لیے۔“ نگین نے اپنی باریک
آواز میں کہا تو ”صحیح کہہ رہی ہو.“ کہہ کر انوشہ نے گردن اثبات میں ہلائی۔
”چلو یار کچھ کھاتے ہیں اور سیلفی بناتے ہیں۔“ لائبہ نے کہہ کر ان
کی ٹرین کو فوڈ کورٹ کی طرف کھینچا۔ تینوں ایک بار پھر ہنس پڑیں۔ وہ جب سے مال آئی
تھیں ایسے ہی کر رہی تھیں کبھی ایک اس دکان کی طرف کھینچتی ہوئی لے کر جاتی تو
کبھی دوسری۔ پھر تینوں ہنسنا شروع کر دیتیں۔ وہ تینوں آج بہت خوش تھیں۔
گھر سے
اجازت لے کر لائبہ ان دونوں کے ساتھ ہی انوشہ کے گھر کے لیے روانہ ہو گئی تھی۔
اتنی مستی اور سفر کے بعد تینوں ہی گھر آکر بیڈ پر گر گئیں۔ آنکھیں بند کیے وہ اس
لمحے کو محسوس کر رہی تھیں وہ تینوں ایک دوسرے کے ساتھ تھیں۔ ہنستی مسکراتی، خوش
اور مطمئن۔ اپنی اپنی زندگی کی تلخیوں سے نکالا گیا ان کا یہ وقت بہت اچھا گزر رہا
تھا جب نگین کا فون بجا۔
”کس کا فون ہے؟“ بند آنکھوں کے ساتھ نگین نے لائبہ سے پوچھا جو اس
کا فون اٹھا کر دیکھ رہی تھی۔
”بابا کی کال ہے۔“ لائبہ نے جیسے ہی کہا نگین نے پٹ سے آنکھیں
کھولیں اور اس کے ہاتھ سے فون لے کر اٹھ بیٹھی۔
”السلام علیکم! کیسے ہیں بابا؟“ چہرے سے ماسک اتار کر اس نے فون
کان سے لگایا۔ سیاہ آنکھوں میں ڈھیروں محبت آ ٹھہری تھی۔ ہونٹ کے نیچے سیاہ گہرا
تل اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ وہ خوبصورت تھی۔ اور بھلا کون سا انسان ہے جسے
اللہ نے خوبصورت نہ بنایا ہو؟ ایک دوسرے سے مختلف سب ہی اللہ کی بنائی بہترین اور
خوبصورت مخلوق ہیں۔
”جی بابا میں بھی الحمدللہ ٹھیک ہوں اور باقی سب بھی ٹھیک ہیں…..
جی جی چاچو سے میری بات ہوتی ہے وہ آئے بھی تھے کل ملنے ہم سے…… جی بابا سب ٹھیک
ہے اور آج ہم گھومنے گئے تھے بہت مزا آیا۔“وہ دوسری طرف کی سنتی پھر جواب دے رہی
تھی۔ چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت سمٹ آئی تھی۔ اس کا چہرہ بہت معصوم سا تھا۔
چھوٹی چھوٹی آنکھیں اور پتلے ہلکے گلابی ہونٹ۔ وہ پیاری تھی۔ اور کسی کو بھی بہت
زیادہ پیاری لگ سکتی تھی۔ مسکراتے ہوئے وہ فون پر بات کر رہی تھی جب ایک دم لائبہ
چیخ کر اٹھ بیٹھی۔ نگین اور انوشہ تو ہڑبڑائے سو ہڑبڑائے فون کے دوسری جانب نگین
کے بابا بھی یکدم پریشان ہوگئے۔
”کیا ہو گیا لائبہ کیوں چیخ رہی ہو؟“ انوشہ نے فکرمندی سے پوچھا۔
نگین اور اس کے بابا بھی اسی طرف خاموشی سے متوجہ تھے۔
”یہ دیکھو انوشہ۔ یہ…..یہ دیکھو“روتے ہوئے لائبہ نے ہاتھ میں پکڑا
موبائل فون انوشہ کے آگے کیا تو نگین بھی آگے ہو کر دیکھنے لگی۔ موبائل پر ایک
ویڈیو چل رہی تھی جس میں کراچی اور حیدرآباد کے درمیانی ہائی وے کے راستے کے قریب
کسی جھاڑیوں والے علاقے کا منظر چل رہا تھا۔ جہاں بہت سی پولیس موبائل کھڑی تھیں
اور ایک ایمبولینس کھڑی تھی جس میں ایک آدمی خون سے لے پت تھا۔ ویڈیو میں بہت سے
مناظر دیکھائے جا رہے تھے۔ جس میں ایک منظر کو دھندلا کر کے دیکھایا جا رہا تھا۔
جس میں ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ بہت احتیاط سے زمین کے نیچے سے نکالا جا رہا تھا اور
ساتھ مٹی میں اٹی بہت سی چیزیں تھی۔
”ناظرین ہم آپ کو بتاتے چلیں یہ ایک انسانی ڈھانچہ ہے جو زمین کے
دو فٹ نیچے سے نکالا گیا ہے۔ کراچی سے حیدرآباد جانے والے ہائی وے کے راستے پر
اچانک ایک گاڑی کا بریک فیل ہوا اور یہ حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے زمین کے اس حصے
پر اچانک کوئی چیز نظر آئی۔ جب پولیس نے مزید کھدائی کر کے جاننے کی کوشش کی کہ
آیا یہ انسانی ہڈی ہے یا کسی جانور کی ہڈی ہے تو زمین نے اپنے راز کو فاش کرد یا
اور دل دہلا دینے والی یہ لاش منظر عام پر آئی۔ ناظرین آپ کو بتاتے چلیں یہ وہی
جگہ ہے جہاں کچھ سال پہلے کھجور کے گھنے درخت ہوا کرتے تھے۔ یہ جگہ سرسبز ہوا کرتی
تھی….“
ریپورٹر
اور بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا لیکن رات کے وقت اکیلے کمرے میں وہ تینوں یہ مناظر
دیکھ کر سخت وحشت کا شکار ہوئی تھیں۔ دوسری جانب نگین کے ابو نگین کو پریشان نہ
ہونے کا کہہ رہے تھے ساتھ ہی اسے محتاط رہنے کا بھی کہہ رہے تھے۔ باقی دونوں
خاموشی کی مورت بنی تھیں۔ لائبہ کی آنکھیں نم تھیں وہ بہت زیادہ حساس تھی۔ ایسے
مناظر دیکھنا اس کے لیے بلکل آسان نہیں تھا پتہ نہیں فیس بک پر اسکرول کرتے ہوئے
کیسے اچانک یہ ویڈیو اس کی نظروں میں آگئی۔ جس کی تاریخ آج کی ہی دکھ رہی تھی اور
اب سے چند گھنٹے پہلے ہی اپلوڈ کی گئی تھی۔
”لائبہ تم رو تو مت یار۔ تم نے کیوں کھولی یہ ویڈیو؟ چھوڑو یہ سب
چلو ہم فریش ہوتے ہیں۔ آجاؤ دونوں۔“ نگین ان دونوں کو کہتی اٹھی اور انہیں بھی
اٹھانے لگی۔ وہ خود بھی بہت حساس تھی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے بھی لگ جاتی
تھی لیکن اس وقت اسے اپنے دوستوں کو سنبھالنا تھا اس لیے مضبوط بنی رہی۔ ویسے بھی
وہ بہت جلد ڈاکٹر بننے والی تھی اگر اس طرح کمزوری دکھاتی تو ڈاکٹر تو کبھی نہیں
بن پاتی۔
”عجیب بات ہے ایسے علاقے میں اس طرح اچانک ایک لاش کا ملنا۔ اوپر
سے میڈیا والوں کو سکون نہیں ہے اپنے چینل کو چلانے کی خاطر دونوں شہروں میں عجیب
خوف پیدا کردیا ہے ان لوگوں نے۔ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے ایسی ویڈیوز چند لمحوں میں
وائرل ہوتی ہیں اور کتنے لوگوں پر برا اثر پڑتا ہے اسکا انہیں ذرا خیال نہیں ہے۔“
وہ سر جھٹکتے ہوئے اپنے دفتر کی کرسی پر بیٹھا اپنے سامنے کھڑے باوردی اہلکار سے
قدرے سخت لہجے میں کہہ رہا تھا۔ اس شہر میں تبادلے کے بعد آج اس کا پہلا دن تھا
اور پہلے ہی دن شہر کے قریبی راستے پر اتنا بڑا حادثہ ہونا اور پھر یہ سالوں پرانی
لاش۔ اس کی قابلیت دیکھتے ہوئے یہ کیس فوراً ہی اسے دے دیا گیا تھا۔
وہ ستائیس
سال کا خوبرو نوجوان تھا۔ اونچے لمبے قد کے ساتھ اسکی وجاہت کے علاوہ اسے جو چیز
پُرکشش بناتی تھی وہ اس کی آنکھیں تھیں۔ گہری سیاہ گھنی پلکوں کی حفاظت میں ذہانت
سے چمکتی ہوئی آنکھیں، جو بہت باریک بینی سے جائزہ لیا کرتی تھیں۔ اس کا کوئٹہ سے
کراچی میں تبادلہ اسے کسی امیر زادے کے کیس سے ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔ وہ اپنے
نام کا ایک تھا۔ میرین البلوشی (Mirein
Al-Balushi) ایک دنیا بستی تھی اسکے سینے میں۔ پورا بلوچستان اپنے سینے میں
لے کر گھومنے والا وہ سرداروں کے گھرانے سے تھا۔ جتنا بھاری اس کا ہاتھ تھا اتنی
ہی بھاری اور رعبدار اس کی آواز تھی۔ وہ ایک بلوچ تھا۔ خاندانی بلوچ…
”سر آپ فکر مت کریں۔ اب تو ملک کی عوام کو بھی اس سب کی عادت ہو
گئی ہے۔ اب لگتا ہے ہماری قوم نے ”جو ہے، جیسا ہے پر ہمارا ہے“ کہ مصداق حقائق اور
حالات کو قبول کر لیا ہے۔ نفسا نفسی کا دور ہے ہر کسی کو بس اپنی فکر لگی ہے بس۔“
انسپیکٹر عارف نے افسوس سے سر جھٹکتے ہوئے کہا تو اس نے بھی سر اثبات میں ہلایا۔
البتہ آنکھیں اس فائل پر تھیں جو ابھی ابھی اسے ہیڈکوارٹر سے موصول ہوئی تھی۔
”صحیح کہہ رہے ہو عارف۔ لوگ بے حس ہوتے جا رہے ہیں۔ خیر تم پتہ کرو
کہ اس علاقے کے قریب سے کوئی گمشدگی کا کیس درج ہے کیا؟ اور یہ بھی پتہ کرو کہ یہ
انگوٹھی کوئی خاص انگوٹھی ہے کیا؟ ہو سکتا ہے اس سے کوئی کڑی ملے۔“ اس نے گہرا
سانس لیا پھر دوبارہ کہا ”اور ہاں! ایک بات یاد رکھنا میرے ساتھ کام کرنے کے لیے
کچھ احتیاط ہیں۔ جیسے میڈیا تک کوئی بھی بات میری اجازت کے بغیر نہیں پہنچنی
چاہئیے اور دوسرا یہ کہ اس کیس کے حوالے سے کوئی بھی خبر میرے کانوں سے گزرے بغیر
اگر کسی ریپورٹر کے کانوں تک پہنچی تو یاد رکھنا ایسی جگہ تبادلہ کرواؤں گا جہاں
بات کرنے کے لیے مردے بھی میسر نہیں ہوں گے۔“ سرد لہجے میں کہتے ہوئے آخر میں ایک
آئی برو اچکا کر سمجھ آنے کی تصدیق چاہی۔ انسپیکٹر عارف نے جھٹ اثبات میں گردن
ہلائی اور اجازت ملتے ہی یہ جا وہ جا ہوا۔
وہ تینوں
صبح سے ہی نت نئے فیس ماسک چہرے پر لگائے بیوٹی ٹریٹمنٹ میں مصروف تھیں۔ ارادہ
فریش ہو کر دن میں ہی سیر و تفریح کا تھا۔ تینوں کافی پُرسکون نظر آ رہی تھیں۔ رات
کے واقعے کا شائبہ تک نہ تھا۔
”یار! آج ہم کشمیر ایمیوزمنٹ پارک جا رہے ہیں۔ پتہ ہے نگین یہ
فوجیوں کا پارک ہے۔ پہلے اس کا نام عسکری ایمیوزمنٹ پارک تھا۔ میں کیا سوچ رہی ہوں
کہ وہاں کوئی اچھے سے تین فوجی مل جائیں تو ہم تینوں کی لائف سیٹ ہو جائے گی
یار۔“وہ اپنا ہی خیالی پلاؤ بنا رہی تھی اس بات سے بے پرواہ کہ ان معصوم بیچارے
فوجیوں سے بھی ان کی رائے جان لی جائے کہ کہیں یہ بات سن کر وہ فوج سے مستعفی ہونے
کا تو نہیں سوچنے لگے ہیں۔
”سنو اپنا فوجی نامہ نا بند ہی رکھو تم۔ خبردار وہاں جا کر تم نے
ایسی ویسی کوئی بھی بات کی تو۔ منہ توڑ دوں گی میں تمہارا.“ نگین نے تپ کے کہا
تھا۔ وہ جانتی تھی اس کے جوش کو یہیں سے ٹھنڈا کرنا پڑے گا کیونکہ وہاں جا کر وہ
ہاتھ میں کہاں آئے گی۔
”کیا ہے یار؟ بندہ اب تھوڑا سا خیالی پلاؤ بھی نہیں پکا سکتا۔“
لائبہ شدید دلگرفتہ ہوئی۔
”تم دونوں اب کھڑی ہو جاؤ ورنہ میں اکیلی چلی جاؤں گی۔“ انوشہ کی
دھمکی فوراً ان دونوں کو سیدھا کر گئی تھی لیکن نگین نے پھر بھی لائبہ کو گھورنا
بند نہیں کیا تھا۔
لائبہ بلوچ
خاندان سے تھی۔ جسے اپنی جڑوں سے بے حد محبت تھی۔ اس کا پورا خاندان کراچی میں آ
بسا تھا جبکہ نگین ایک پٹھان خاندان سے تھی اس کا پورا نام ”نگین یوسف زی“ تھا۔
مگر اس کا خاندان برسوں سے کوئٹہ میں رہائش پذیر تھا۔ اور میں… انوشہ! میرے بارے
میں تو آپ جانتے ہی ہیں. اب اپنے قلم سے اپنی تعریف میں کیا ہی لکھوں۔
یہ کراچی
کے پولیس تھانے کا منظر تھا۔ جہاں معمول سے ہٹ کر کافی چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔
جب سے میرین البلوشی نے تھانے کا چارج سنبھالا تھا پورا عملہ ایک ٹانگ پر کھڑا نظر
آتا تھا۔ چھوٹی موٹی دیہاڑیاں تو بند ہوئیں سو ہوئیں، الٹا پورا عملہ چاک و چوبند
ہو گیا۔ مفت کی چائے تو تب ملتی نا جب وقت ہوتا۔ سارا دن ایس پی سارے عملے کے سر
پر سوار ہی نظر آتا تھا۔
”سر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا ہے آپ کے لیے کھانا منگوا دوں؟“
عارف نے دروازے سے سر نکال کر پوچھا تو میرین نے فائل پر جھکے جھکے ہی انکار میں
گردن ہلائی۔ وہ اپنے کیس کو لے کر بہت زیادہ سنجیدہ اور پریشان نظر آ رہا تھا۔
عارف بھی خاموشی سے پلٹ گیا۔
”زندگی بہت آسان چل رہی تھی اور پھر میرا تبادلہ کراچی میں ہوگیا“
تھک کر کرسی سے پشت ٹکاتے ہوئے وہ ہولے سے بڑبڑایا۔ اس کیس نے اس کی راتوں کی نیند
حرام کر دی تھی۔ انتخابات سر پر تھے اور ایسے میں اقتدار کی خاطر کتنی بھاگ دوڑ
ہوتی ہے یہ ہم پاکستانی اچھی طرح جانتے ہیں۔ اور یہی وجہ تھی کہ اوپر سے حکم ملا
تھا کہ یہ کیس جلد از جلد حل کر کے عوام کو خوش کر دیا جائے۔ اور اس کی ساری ذمہ
داری کس پر تھی؟ بلکل…. ہمارے پیارے میرین پر۔
”السلام علیکم ایس پی میرین البلوشی اسپیکینگ!“ ٹیلیفون کی آواز پر
آنکھیں کھول کر سیدھا ہوا اور ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا۔ وہ آج کافی تھکا تھکا
سا لگ رہا تھا۔
”وعلیکم السلام البلوشی صاحب! کیسے مزاج ہیں آپ کے؟“ کان میں
مسکراتی ہوئی مانوس سی آواز گونجی تو بے اختیار وہ بھی مسکرا اٹھا۔ لمحوں میں چہرے
کے خدو خال میں سرخی گھلی تھی۔ وہ مسکراتا تھا تو سرخ پڑ جاتا تھا۔ ہمارا کیوٹ سا
میرین۔
”ناکو(انکل)! آپ مجھے ہمیشہ حیران کرتے ہیں۔ مجھ سے پہلے آپ کو پتہ
لگ جاتا ہے کہ میں کہاں ہوں گا اور مجھ سے کیسے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ میں بلکل
ٹھیک ہوں۔ آپ کیسے ہیں؟“ جزباتی ہو کر وہ پرجوش سا کہہ رہا تھا اور مسکراہٹ تو
چہرے سے جدا ہی نہیں ہو رہی تھی۔
”بس اپنے بچے کی خبر رکھتا ہوں۔ پیارے جو بہت ہو تم مجھے اور
تمہاری آواز سن کر اب میں بلکل ٹھیک ہو گیا ہوں۔“ ٹھہرا ہوا مستحکم لہجہ اور بارعب
انداز۔ پتہ نہیں وہ دکھتے کیسے ہوں گے؟ شاید اس عمر میں بھی خوبرو جوان…
”میرے لیے آپ کی محبت بہت خاص ہے۔“ اس نے محبت سے کہا پھر دوسری
جانب کی بات سننے لگا۔ وقفے وقفے سے اس کی ہنسی کی آواز گونجتی جو باہر کھڑے عارف
اور دوسرے اہلکاروں کو حیرت میں مبتلہ کر دیتی۔ وہ حیران نظروں سے کبھی اس کے کمرے
کے دروازے کو دیکھتے کبھی ایک دوسرے کو۔ وہ تول تول کر بولنے والا بات بات پر ہنس
رہا تھا۔ اتنا فراخ دل وہ کب سے ہوگیا؟ یا وہ ایسا ہی تھا بس ہمیں تھوڑا وقت لگے
گا جاننے میں؟ وہ سب انہیں سوچوں میں تھے جب وہ دروازہ وا کر کے باہر نکلا۔ ان سب
کو دروازے کے باہر کان لگا کر کھڑا دیکھ اس نے اچھنبے سے دیکھا.
”کیا ہوا؟“ وہ سارے ایک دم گڑبڑا کر سیدھے ہوئے۔ ایک دوسرے سے
نظریں چراتے یہاں وہاں دیکھنے لگے۔
”خیریت ہے؟ کوئی کام تھا تو دروازہ بجا کر اندر آ جاتے ایسے باہر
کیوں کھڑے ہو؟“ وہ جتنا حیران ہوتا کم تھا۔
”نہیں سر وہ بس ہم دروازہ بجانے والے تھے کہ آپ باہر آ گئے۔“ عارف
نے ہی جواب دیا۔
”اچھا…؟“ وہ جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگا۔ ”خیر میں کام سے جا
رہا ہوں۔ ہائی وے والے کیس کی جیسے ہی فورینسک ریپورٹ آئے مجھے مطلع کرنا۔“ اس نے
عجلت میں کہا اور بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
بائیس مارچ
کا دن تھا۔ وہ تینوں گہرے رنگوں کے مختلف ابائے پہنے پارک میں داخل ہوئیں تو بے
ساختہ منہ کھلا رہ گیا۔ آج پارک میں تیئیس مارچ کی نسبت سے سجاوٹ کی ہوئی تھی۔ وہ
تینوں چلتی ہوئیں ایک جانب بنے نسبتاً کم آبادی والے سبزے کی طرف آ گئیں۔ زبانیں
تواتر سے چل رہی تھیں۔ یہ تینوں چپ کہاں ہوتی تھیں؟ ایک کہہ کر فارغ ہوتی کہ دوسری
جھٹ وہیں سے کہنا شروع کر دیتی۔ تینوں کو ہی باتیں بگھارنے کا شوق تھا۔
”یار آج بہت گرمی ہے۔“ لائبہ نے اس انداز میں کہا کہ وہ دونوں اسے اچھنبے
سے دیکھنے لگیں کہ کہیں اس کا دماغ تو نہیں چل گیا؟ کراچی میں کم گرمی بھلا کب
ہوتی تھی؟ اور وہ بھی مارچ کے مہینے میں۔ اسی لیے لاہور والے کراچی والوں کا مزاق
اڑاتے ہیں۔ ہم بونگیاں بھی تو ایسی ہی مارتے ہیں۔
”مجھے ایسے مت دیکھو میں بلکل ٹھیک ہوں بلکہ میرا دماغ سات سو کی
رفتار سے چل رہا ہے۔ وہ دیکھو باوردی افسر۔“ لائبہ نے بات کرتے ہوئے جیسے ہی گردن
سامنے کی تو ایک دم ایک باوردی جوان سامنے سے آتا ہوا نظر آیا تو وہ بات کے اختتام
پر جوش سے چہکی۔
”بہن تو ہلکی ہو جا۔ پٹوانا ہے کیا؟ یہ بھی نیا منظر ہوگا کہ پہلی بار
ابائے میں لڑکی نے باوردی افسر کو چھیڑا۔ لعنتوں کے ساتھ جوتے بھی پڑیں گے وہ بھی
سرکاری۔“ نگین نے چسکے لیتے ہوئے کہا جیسے تصور میں لائبہ کی درگت بنتے دیکھ رہی
ہو.
”چپ کر لو دونوں وہ یہیں آ رہا ہے۔“ انوشہ نے دھیمی آواز میں گھرکا
تو دونوں سیدھی ہوئیں۔
”السلام علیکم!“ وہ قریب آ کر سچ میں ان تینوں کے پاس ہی رکا تو
تینوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ انہیں لگا وہ انکی بکواس سن چکا ہے۔ جبکہ عقل کی بات
ہے وہ اتنی دور سے انکی بھنبھناہٹ کیسے سن سکتا تھا۔ پر ہائے رے یہ احمق لڑکیاں..
”جی؟“ سب سے پہلے نگین کو ہوش آ یا وہ ایکدم کھڑی ہوئی ساتھ انوشہ
کو بھی کھینچا جس نے لائبہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ تینوں کسی زنجیر کی طرح ایک
مومینٹم میں کھڑی ہوئیں۔
”میرا نام میرین البلوشی ہے۔ مجھے محترمہ نگین یوسفزئی سے بات کرنی
ہے۔“ وہ جزبز ہوتا ہوا ان کی حرکت کو نظرانداز کر کے کہنے لگا۔ اس کی بات پر نگین
کی آنکھیں انتہائی حد تک پھیلیں۔ انوشہ نے گلہ کھنکارا۔ لائبہ کی آنکھوں میں فوراً
شرارت اتر آئی۔
”جی آپ کو نگین سے کیا کام ہے اور آپ..؟“ انوشہ کو سمجھ نہ آیا کے
کیسے پوچھے کہ ہم تینوں نقاب میں ہیں تو اس نے کیسے پہچانا؟
”میں نے نگین محترمہ کا موبائیل ٹریس کیا اور آپ تینوں تک پہنچ
گیا۔ میں ان کے والد کے دوست کا بیٹا ہوں انہوں نے مجھے اپنی بیٹی کی خیریت جاننے
کے لیے بھیجا ہے اور اس لیے بھی کہ میں انہیں اپنا نمبر دے دوں تاکہ کسی بھی طرح
کی مشکل کی صورت
میں وہ مجھ
سے رابطہ کر سکیں۔“ انوشہ نے اسے فوراً پہچان لیا تھا۔ وہ وہی تھا جسے ہائی وے
والا کیس دیا گیا تھا۔
”بابا نے؟“ نگین بری طرح چونکی۔ کیونکہ بابا نے اس سے ایسا کچھ
نہیں کہا تھا۔ پر یہ افسر اسے کچھ دیکھا دیکھا لگا تھا۔
”جی۔ آپ چاہیں تو ان سے کال کر کے پوچھ سکتی ہیں۔“ اس کی باریک
مترنم آواز پہچانتا وہ پورا نگین کی طرف گھوم گیا تھا۔ نگین نے واقعی موبائیل پر
اپنے بابا کو کال ملا دی۔ وہ تسلی کیوں نہ کرتی۔ ایسے ہی کسی پر بھی بھروسہ کیسے
کر لیتی؟
کال جا رہی
تھی لیکن اٹھائی نہیں گئی نتیجتاً خود ہی کٹ گئی۔ نگین موبائل پر جھکی ہوئی تھی جب
نظر واٹس ایپ نوٹیفیکیشن پر گئی۔ بابا کے نمبر سے میسج تھا۔ ایک تصویر تھی جو لوڈ
ہو رہی تھی اور دو میسج تھے ایک میں لکھا تھا ”ایس پی میرین البلوشی۔ عالم بابا کا
بیٹا۔“ دوسرے میسج میں لکھا تھا ”تمہاری فکر ہو رہی تھی بچے اسی لیے میرین کو
تمہارے پاس بھیجا ہے اسے تمہارا نمبر بھی دیا ہے وہ خود تم تک آ جائے گا۔ کراچی
میں تم اس پر بھروسہ کر سکتی ہو۔ تمہارے چاچو آج کوئٹہ واپس آ رہے ہیں یہاں کچھ
مسئلہ ہو گیا ہے۔ تو اب کراچی میں تم میرین کی ذمہ داری ہو۔ اسے زیادہ تنگ مت کرنا
اسکی بات ماننا۔“ وہ تینوں موبائل پر جھکی سارے میسجز پڑھ کر اب تصویر دیکھ رہی
تھیں اور بلاشبہ وہ جتنا تصویر میں وجیہہ لگ رہا تھا اس سے کہیں زیادہ وہ حقیقت
میں لگ رہا تھا۔
”یہ میرا نمبر ہے۔“ تینوں کو موبائل سے سر ایک ساتھ اٹھاتے دیکھ وہ
غیر آرام دہ ہوا تھا۔ یہ تینوں نمونیاں اسے عجوبے سے کم نہیں لگی تھیں۔ وہ سیدھا
مطلب کی بات پر آیا تاکہ واپس جا سکے انکل نے اگر خود اسے فون کر کے اس کی ذمہ
داری نہ دی ہوتی تو وہ اپنے اتنے ضروری کام چھوڑ کر یہاں نہ آتا۔
”اوہ.. جی دکھائیں۔“ نگین نے پھرتی سے اپنے موبائل پر اس کا نمبر
اسکین کیا اور نام کے ساتھ محفوظ کر لیا۔
”آپ کی ذمہ داری انکل نے مجھے دی ہے۔ ہم ایک ہفتے بعد کوئٹہ کے لیے
نکلیں گے تب تک آپ کہاں رہیں گی؟“
”میں انوشہ کے گھر رہوں گی۔ یہ میری دوست انوشہ ہیں۔ پیشے سے مصنفہ
ہیں۔ میں انہیں کے گھر پر رہ رہی ہوں اور یہ لائبہ ہے ہماری دوست یہ بھی مصنفہ
ہے۔“ اس نے جواب دے کر دونوں کا تعارف بھی کروایا۔ میرین نے سر کے اشارے سے دونوں
کو سلام کیا۔ اس سے پہلے لائبہ منہ کھولتی انوشہ نے بھانپ کر جلدی سے اس کا ہاتھ
دبایا۔ وہ منہ بنا کر چپ ہو گئی۔
”ٹھیک ہے۔ احتیاط کے لیے آپ بھی میرا نمبر رکھ لیں اور اپنا مجھے
دے دیں۔“ میرین نے براہ راست انوشہ سے کہا جس نے نگین کی طرف دیکھا اور پھر موبائل
آگے کر دیا۔ سلام دعا کے بعد اس نے ان تینوں کے واپسی جانے کے وقت کا پوچھا اور یہ
کہ کس کے ساتھ واپس جائیں گی۔ تو نگین نے کہا ہم تینوں ساتھ آئے ہیں اور واپس بھی
ساتھ ہی جائیں گے اور واپسی کا وقت عشاء تک کا بتایا۔ اس کا جواب سن کر میرین کی
پیشانی پر لکیریں آئیں۔
”عشاء کے بعد تک بہت دیر ہو جائے گی۔ مغرب سے پہلے واپس چلے جائیے
تو صحیح رہے گا۔“ میرین نے سادگی سے کہا۔
”لیکن ابھی تو ہم ٹھیک سے گھومے بھی نہیں ہیں اور ایمیوزمنٹ پارک
کا اصل مزہ تو رات کے وقت آتا ہے جب ساری روشنیاں کھلیں گی اور آج تو کتنی اچھی
سجاوٹ ہوئی ہے تصویریں بھی تب ہی اچھی بنیں گی۔“ جلدی واپسی کا سن کر لائبہ کی
خاموشی جھٹ سے ٹوٹی اور زبان پوری رفتار سے چل پڑی۔ میرین تو میرین، نگین اور
انوشہ نے بھی اسے آنکھیں پوری کھول کر دیکھا۔ وہ ایک دم ہی بریک لگاتی یہاں وہاں
دیکھنے لگی۔
”ٹھیک ہے پھر ایسا کریں جیسے ہی آپ لوگ فارغ ہوں اور گھر جانا
چاہیں مجھے کال کیجئے گا میں آ جاؤں گا۔ اللہ کی امان.“ جلدی سے حل بتا کر ان کے
دوبارہ کچھ بھی کہنے سے پہلے میرین نے بات ختم کی اور واپسی کے لیے قدم بڑھا دیے۔
وہ تینوں اس کی جلدی پر آنکھیں کھولے دیکھنے لگیں۔ جبکہ نگین کے ہونٹوں پر الفاظ
آنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔
”میں تمہارا کیا کروں لائبہ بی بی؟“ انوشہ نے اسے خشمگیں نگاہوں سے
گھورا تو وہ ہنستی ہوئی دوڑ لگا گئی۔ وہ دونوں بھی اس کے پیچھے بھاگیں۔ دروازے کے
کچھ قریب پہنچ کر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ تینوں آگے پیچھے دوڑ رہی تھیں۔ وہ
سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔ پاگل…
”السلام علیکم سر! انگوٹھی کے بارے میں پتہ چل گیا ہے۔ اللہ کا کرم
ہے کہ یہ انگوٹھی اپنے ڈیزائن اور اس میں جڑے موتی کی وجہ سے اکلوتی ہے۔“ عارف نے
جوش سے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔ میرین نے فوراً فائل سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
”دکھاؤ۔“ عارف کے ہاتھ سے فائل لیتا وہ دیکھنے لگا۔ بے صبری اور
خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
”انگوٹھی دیکھتے ہی ایک اندازہ تو میرا یہی لگا تھا کہ لاش کسی
لڑکی کی ہے۔ اور یہ کڑی ہمارے کیس کو پہلا دھکا لگائے گی۔ چلو اس ایڈریس پر جا کر
پتہ کرتے ہیں۔ موبائل نمبر کے بارے میں معلوم کیا؟“ وہ عارف کے ساتھ باہر جاتے
ہوئے کہہ رہا تھا۔ آوازیں دور ہوتی جا رہی تھیں۔
پولیس
موبائل کراچی کے ڈیفینس کے علاقے میں ایک وسیع رقبے پر پھیلے گھر کے دروازے کے
سامنے رکی۔ باوردی محافظ نے چھوٹی کھڑکی سے پولیس موبائل دیکھی تو اپنی جگہ سے اٹھ
کر باہر آیا۔ عارف کے پوری بات بتانے پر چوکیدار نے گھر کے اندر فون پر بتایا۔
اجازت ملتے ہی اس نے دروازے کھول دیے۔
”السلام علیکم ایس پی صاحب!“ میرین جیسے ہی پولیس موبائل سے اترا
تو اندرون دروازے سے گھر کا مالک نمودار ہوا اور اسے پہچانتے ہی سلام بھی کر ڈالا۔
میرین نے ہاتھ بڑھا کر جواب دیا۔
”ایک کیس کے سلسلے میں کچھ پوچھ تاچھ کرنی ہے۔ آپ کا تعاون کسی کو
انصاف دلا سکتا ہے۔“ میرین نے سنجیدگی سے کہا۔ وہ اس وقت پولیس کی وردی میں موجود
تھا۔ آنکھوں میں عزم لیے وہ نہایت تمیز سے مخاطب تھا۔
”بلکل تعاون کریں گے آپ پلیز اندر آئیے۔“ وہ اسے اور عارف کو لیے
اندر داخل ہوا باقی اہلکار باہر کھڑے انتظار کرنے لگے۔
”میرا نام عثمان حیدر ہے۔ میں خود ایک جوہری ہوں۔ ہیروں اور سونے
کے بنے جواہرات تراش کر بنانا میرا پیشہ ہے۔ جب آپ کے افسر نے فون پر اس انگوٹھی
کے بارے میں پوچھا تو میں خود آپ کا انتظار کرنے لگا۔ اور یہ سارے دستاویزات بھی
نکالے۔“ عثمان حیدر دھیمے لہجے میں بات کر رہا تھا۔ میرین کو کیس کے حوالے سے بہت
مثبت محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے آج آدھا کیس یہیں حل ہونے والا ہے۔
”تو یہ انگوٹھی آپ نے اپنی بہن کے لیے بنوائی تھی۔ اور وہ اکلوتا
ڈیزائن تھا۔ مطلب یہ انگوٹھی آپ کی بہن کی ہے۔“ میرین نے دستاویزات پر نظر ڈالتے
ہوئے کہا تو عثمان حیدر کی آنکھیں نم ہونے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اپنا
ضبط کھو دیا۔ وہ اونچا لمبا مرد اپنی بہن کی یاد میں بری طرح رو رہا تھا۔ میرین نے
ضبط سے مٹھیاں بھینچی اور عارف کو اشارہ کیا۔ عارف نے آگے بڑھ کر عثمان کو حوصلہ
دیا اور پانی پلایا۔ کچھ دیر بعد جب وہ قدرے سنبھل گیا تو میرین نے سلسلہ کلام
وہیں سے جوڑا۔
”اس رات وہ اپنی ایک سہیلی کے ساتھ باہر گارڈن میں کھیل رہی تھی۔
وہ ایک پری میچیور بے بی تھی۔ اس لیے ذہنی طور پر اپنی عمر سے بہت چھوٹی تھی۔ خوش
قسمتی سے اسے ایک اچھی سہیلی مل گئی تھی۔ وہ بے حد خوبصورت تھی۔ تمام گھر والوں کی
لاڈلی، میرا ٹریژر تھی وہ۔ وہ دونوں کھیل رہی تھیں کہ اچانک اس کی سہیلی کو اس کی
امی نے بلایا وہ گڑیا کو کچھ دیر میں آنے کا کہہ کر باہر چلی گئی۔ گڑیا وہیں گارڈن
میں تھی۔ لیکن جب میں دفتر سے گھر واپس آیا وہ نہیں تھی۔ وہ کہیں نہیں… تھی۔“ وہ
دھاڑیں مار مار کر رونا شروع ہو گیا تھا۔ ”اس کے غائب ہونے کے بعد ہم سب نے اسے
بہت ڈھونڈا۔ تھانے میں ریپورٹ درج کروائی۔ جو کچھ بھی میں کر سکتا تھا میں نے کیا۔
لیکن وہ نہیں ملی….“ روتے روتے اس سے بات مکمل کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ایسا درد تھا
اس کی آواز میں، ایسی تکلیف تھی کہ میرین اور عارف کی اپنی آنکھیں بھی بھیگ گئی
تھیں۔
”وہ کیا گئی ایک ایک کر کے سب ہی زندگی سے روٹھ گئے۔ پہلے بابا پھر
مام پھر میرے بڑے بھائی…. سب چلے گئے۔ میں اکیلا رہ گیا۔ اکیلا رہ گیا میں….“ وہ
ہچکیوں سے رو رہا تھا۔ کیا کچھ کھویا تھا اس شخص نے؟ کتنی تکلیف، کتنی اذیت سے
گزرا ہو گا وہ اور اس کا خاندان…
”میں معذرت چاہتا ہوں۔ میرا ارادہ آپ کے زخم کریدنا نہیں تھا۔ پر
کیا آپ کچھ مزید سوالات کا جواب دے سکتے ہیں؟“ میرین نے بہت بھاری دل کے ساتھ یہ
سوال کیا تھا۔ بہن کا یوں اپنے ہی گھر سے غائب ہونا اور پھر اس کے غم میں گھل کر
گزرے اپنوں کا درد۔ اسے یہ غم اپنے دل پر محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اپنے پولیس کیریئر
میں ایسے کئی دل دہلا دینے والے کیسز دیکھ چکا تھا۔ ایسی بہت سی حقیقتیں تھیں جو
روح کو جھنجوڑ دیتی تھیں۔ اور ایسے میں اپنے حواس بحال رکھنا چاہے جتنا مشکل ہو
اسے یہ کرنا ہی تھا۔ اسے اپنے حواس بحال رکھتے ہوئے اپنا کام کرنا تھا اور اپنا
کام اسے بہت اچھی طرح آتا تھا۔
”ہاں ضرور..“ عثمان نے خود کو سنبھالتے ہوئے ہامی بھری۔
”ذرا یہ تصاویر دیکھ کر بتائیں کیا یہ سامان آپ کی بہن کا ہے؟“
عارف نے موبائل فون اس کی جانب بڑھایا جس میں لاش کے ساتھ ملے سامان کی تمام
تصاویر تھیں۔ جیسے جیسے عثمان دیکھ رہا تھا اس کی آنکھیں پھر بھیگتی جا رہی تھیں۔
آخری تصویر میں موجود کھلونے والا بھالو دیکھ کر اسکی حالت خراب ہونے لگی۔ گہرے
گہرے سانس لیتے ہوئے اس نے موبائل عارف کو واپس پکڑایا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا
ہوا۔
”یہ…سب… یہ سب میری گڑیا کا ہے..“ بولتے ہی وہ زور زور سے رونے
لگا۔ کچن کے دوسرے دروازے سے کوئی کچن میں داخل ہوا تو عثمان کی بلکتی ہوئی آواز
سن کر بھاگتا ہوا کچن سے نکل کر لاؤنج میں داخل ہوا۔ عارف عثمان کے کندھے پر ہاتھ
رکھے اسے حوصلہ دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ میرین کے دل پر بہت سا بوجھ آ گیا تھا۔
دل میں اس قاتل کا برا انجام کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وہ جیسے ہی کھڑا ہوا تو نظر
سامنے سے آتے تینتیس بتیس سالہ مرد پر پڑی جو فکرمند سا عثمان کے قریب آ گیا تھا۔
”آپ کی تعریف ؟“ میرین نے کھوجتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے سوال
کیا تو وہ سیدھا ہوا۔
”میں عثمان حیدر سر کے گھر کا کیئر ٹیکر ہوں۔ میرا نام شاکر اسلم
ہے۔“ اس شخص نے سیدھے کھڑے ہوتے ہوئے جواب دیا۔ میرین کی چھٹی حس نے اس نووارد کے
حوالے سے کچھ اچھے سگنل نہیں دیے تھے۔
”وہ تھانے کی طرف جاتی سڑک پر روانہ تھے۔ جب میرین کا موبائل بجا۔
اسکرین پر نظر ڈالی تو نگین کالنگ لکھا جگمگا رہا تھا۔ میرین کے دماغ نے تیزی سے
کام کیا اور اسے یاد آیا کہ ان تینوں آفتوں کو پارک سے واپس گھر چھوڑنے کی ذمہ
داری اس نے لی تھی۔ عارف کو گاڑی پارک کی طرف موڑنے کا کہہ کر کال اٹھائی اور دس
منٹ کا بتا کر انتظار کرنے کو کہا۔
”ویسے ناگن تمہیں نہیں لگتا یہ ہینڈسم سا پولیس والا تمہارے ساتھ
خوب جچے گا۔“ لائبہ نے شرارت سے انوشہ کی طرف دیکھ کر آنکھ دبا کے کہا تو نگین نے
ایک بار پھر اسے بھرپور گھوری سے نوازا۔ اس کے تاثرات دیکھتی لائبہ قہقہہ لگا کر
ہنسنے لگی۔ وہ پورا دن وقفے وقفے سے میرین اور نگین کو لے کر کوئی نہ کوئی ایسی
بات کر رہی تھی جس سے نگین کا پارہ چڑھ جاتا اور وہ اسے دو چار سناتی لیکن سامنے
بھی لائبہ تھی۔ ڈھیٹ نہیں مہا ڈھیٹ۔ وہ بھی کہاں باز آرہی تھی۔
”انوشہ اس کا منہ بند کروا دو اگر اس نے اس ایس پی کے سامنے منہ
کھولا نا میں اسے بنا لحاظ کیے چلتی گاڑی سے دھکا دے دوں گی۔“ نگین نے دھمکاتے
ہوئے کہا جبکہ لائبہ کے ہونٹوں پر اب بھی مسکراہٹ مچل رہی تھی۔ ان دونوں کے مقابلے
انوشہ عمر میں بڑی تھی اور عمر کے اس حصے تک پہنچتے ہوئے وہ کافی حد تک سنجیدہ ہو
گئی تھی۔ جبکہ وہ دونوں ابھی کالج کے امتحانات سے فارغ ہوئی تھیں اور اپنی عمر کے
مطابق شوخ اور چنچل بھی تھیں۔
”یار کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو۔ صبح سے بنا رُکے زبانیں چل رہی
ہیں دونوں کی ابھی تک تھکے نہیں ہو تم دونوں۔ اور لائبہ نگین ٹھیک کہہ رہی ہے
ہمارے درمیان یہ مذاق ہے لیکن وہ غیر مرد ہے اس کے کانوں تک یہ بکواس پہنچے گی تو
شرمندگی والی بات ہوگی۔ چاہے یہ سچ ہے کہ واقعی جوڑی تو خوب جچے گی۔“ سنجیدگی سے
کہتے ہوئے آخر میں انوشہ نے شرارت سے کہا تو لائبہ کے ساتھ نگین بھی ہنس پڑی اور
زور سے ایک ہاتھ کا تھپڑ اس کے بازو پر جڑ دیا۔ ابھی وہ تینوں مسخریاں ہی کر رہی
تھیں جب وہ سامنے سے چلتا ہوا آیا۔ اسے دیکھ کر نگین کے دل نے اچانک ہی ایک بیٹ مس
کی۔ وہ تھکا تھکا سا پولیس کی وردی میں کافی پراسرار مگر پرُکشش لگ رہا تھا۔ اس نے
قریب پہنچتے ہی سلام کیا تو تینوں نے سر کے اشارے سے جواب دیا۔
”مجھے پولیس موبائیل نے یہاں چھوڑا ہے میں ٹیکسی کرواتا ہوں ویٹ۔“
وہ کہہ کر واپس باہر کی طرف بڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد ایک سفید ٹیکسی اندر آئی اور ان
کے پاس ہی رک گئی۔ تینوں پیچھے بیٹھیں جبکہ میرین آگے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا تھا۔
”اور کچھ کنفرم ہو یا نہ ہو اتنا ضرور یقین سے بتا سکتی ہوں کہ یہ
لاش پہلے کہیں اور دفن تھی پھر اسے بعد میں حیدرآباد ہائی وے کے راستے کے اطراف
میں دفنایا گیا ہے۔“ ڈاکٹر میشا نے ہاتھ میں پکڑی فائل وارث کی طرف بڑھاتے ہوئے
کہا۔ میرین نے چونک کر سر اٹھایا۔ وہ میسج پر نگین سے کل کا پلین پوچھ رہا تھا۔
”کیا مطلب قاتل نے پہلے کہیں اور دفنایا پھر واپس لاش اور اس سارے
سامان کو وہاں سے نکال کر یہاں دفنایا؟ پر آپ کیسے کہہ سکتی ہیں؟ ایسا کیا ملا ہے
آپکو؟“ کچھ حیران اور کسی حد تک الجھ کر میرین نے پوچھا۔
”مٹی… مٹی سب بتاتی ہے۔ ادھر آؤ میں تمہیں کچھ دکھاتی ہوں۔“
فورینسک ماہر ڈاکٹر میشا نے دونوں کو لیب میں بلایا۔
”یہ دیکھو۔ یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہاں سے تمہیں یہ لاش ملی۔ اور اب
یہ دیکھو یہ وہ مٹی ہے جو ہمیں اس ہڈیوں کے ڈھانچے کے بلکل اوپر ملی۔ پوری لاش پر
یہ مٹی بری طرح سے چپکی ہوئی تھی جیسے کئی سالوں تک ایک ہی جگہ ایک ہی مٹی میں دبی
پڑی ہو۔“ ایک ایک کر کے ڈاکٹر میشا نے دونوں مٹی کے سیمپل دکھائے اور ان کی ریپورٹ
بھی ان کے سامنے رکھی۔ انسپیکٹر وارث انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ کا سینیئر افسر تھا۔
میرین نے اپنے کسی جاننے والے کے ذریعے سے اسے اپروچ کیا تاکہ وہ فورینسک کا کام
جلدی کروا کر جلد از جلد کیس کو حل کر سکے۔ عثمان حیدر کے ڈینٹل ٹیسٹ کے ذریعے چند
دنوں میں لاش کی تشخیص بھی ہو جانی تھی۔ میرین البلوشی کو یقین تھا کہ یہ لاش
ماہرہ حیدر کی ہی ہے۔ بس اب جلد ہی کیس اپنے حل کی طرف گامزن ہونے والا تھا۔
”مگر قاتل ایسا کیوں کرے گا؟ یا پھر کسی اور نے یہ کیا ہو قاتل کو
معلوم ہی نہ ہو کہ لاش وہاں سے غائب ہو گئی ہے؟“وارث نے میرین کی طرف دیکھ کر کہا۔
اس کے چہرے پر بھی سوچ کی پرچھائیاں تھیں۔
”ایک اور بات۔ کیمیکل ٹیسٹ اور ایٹموسفیئر ٹیسٹ سے ایک اور بات
معلوم ہوئی ہے کہ جس جگہ سے یہ لاش ملی ہے وہاں اس لاش کو دفنائے ہوئے زیادہ عرصہ
نہیں ہوا ہے۔ شاید چند مہینے ہی ہوئے ہوں گے۔“
”اس کا مطلب اسی سال جگہ بدلی گئی ہے۔“ میرین نے کہا تو ڈاکٹر میشا
نے اثبات میں سر ہلایا۔
”مجھے لگتا ہے کوئی جان بوجھ کر اس لاش کو ہمارے سامنے لایا ہے
تاکہ اسے انصاف ملے۔ ہو سکتا ہے کوئی گواہ ہو۔ جو سامنے آنے سے ڈر رہا ہو کہ اسے
کوئی خطرہ ہو سکتا ہے۔“وارث کے کہنے پر میرین نے اثبات میں سر ہلایا۔ اسے بھی کچھ
ایسا ہی لگ رہا تھا۔
”بس اب ایک دن ہی رہ گیا ہے کل میں واپس چلی جاؤں گی۔ یار یہ ہفتہ
کتنی جلدی گزر گیا۔“ نگین نے اداسی سے کہا تو انوشہ نے پیار سے اس کی طرف دیکھا۔
”کیا ہو گیا ہے نگین اتنے اچھے سے تو گزرا ہے یہ پورا ہفتہ بلکہ
تمہیں دو دن اوپر بھی مل گئے تمہارے اس ایس پی کی وجہ سے۔“ انوشہ نے شرارت سے کہا
تو نگین نے اسے آنکھیں دکھائیں۔ مانا کہ بندہ وجیہہ ہے خوبرو ہے لیکن ہے تو پولیس
انسپیکٹر نا۔ اور نگین کو پولیس سے کتنی چڑ تھی اس کو جاننے والے یہ بہت اچھی طرح
جانتے تھے۔
”بس کردو یہ ایس پی نامہ۔ ہر وقت بس پیچھے لگے رہتی ہو میرے۔ اور
کوئی کام نہیں ہے۔“نگین نے آنکھیں گھما کر کہا تو انوشہ نے مسکراہٹ چھپائی۔
”چلو ٹھیک ہے نہیں کہتی کچھ۔ اچھا یہ بتاؤ میری نئی کہانی کا پلاٹ
کیسا لگا تمہیں؟“ انوشہ نے صلح جو انداز میں کہہ کر موضوع بدلہ۔ آج صبح ہی صبح
انوشہ کو نئی کہانی کے لیے پلاٹ ذہن میں آیا تو بس نگین کا دماغ کھانے بیٹھ گئی۔
”مجھے تو اچھا لگ رہا ہے میری کارلی (Carlie)
تم یہ بتاؤ لکھنا کب شروع کرو گی؟ اور کہانی کا نام کیا رکھو گی؟“ نگین نے ہمیشہ
کی طرح اپنی دوست کا حوصلہ بڑھایا۔ وہ ایسی ہی تھی اپنوں کے لیے ہمیشہ پیش پیش، ان
کی خوشی میں ان سے بھی زیادہ خوش اور نرم دل۔
”سوچ رہی ہوں کہانی کا نام رکھوں ”گواہ“ کیونکہ جب گناہگار کو لگتا
ہے کہ اسے گناہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا اس کا کوئی گواہ نہیں تب وہ بھول جاتا
ہے کہ اس پوری کائنات میں رونما ہونے والے ہر واقعے کا ایک گواہ ہمیشہ ہوتا ہے۔ وہ
جو گہرے اندھیروں میں چھپے، زمین کی تہوں تلے دفن راز ہوں یا سمندر کی تہہ میں
ڈوبے راز ہوں سب کا گواہ ہے، سب کی خبر رکھتا ہے۔“ انوشہ نے کھوئے کھوئے لہجے میں
کہا۔
”اچھا سوچا ہے۔ اللہ سے بڑھ کر اس دنیا اور دنیا کے لوگوں کے رازوں
کا کسے علم ہوگا۔ وہ تو علیم ہے، خبیر ہے، بصیر ہے، سمیع ہے۔“ نگین نے ایک جذب کے
ساتھ کہا اور دھیرے سے انوشہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔ آج وہ دونوں اکیلی
تھیں۔ لائبہ تو چار دن پہلے ہی اپنے گھر واپس چلی گئی تھی کہ اس کی نوکری کا مسئلہ
تھا اسے اپنے دفتر جانا تھا۔
”اور لوگ یہی بات فراموش کر کے بیٹھے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کے
گناہوں کا کوئی گواہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے وہ گناہ سب سے چھپ کے کیے ہیں۔ لیکن
وہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ سے کچھ نہیں چھپ سکتا۔ کچھ بھی نہیں…“ انوشہ نے کھوئے
کھوئے انداز میں کہا۔ جب اچانک دونوں موبائل کے نوٹیفیکیشن کی آواز پر چونکی۔ نگین
نے انوشہ کا موبائل اٹھا کر دیکھا تو اس پر ایک غیر محفوظ شدہ نمبر سے پیغام موصول
ہوا تھا۔ صرف دو الفاظ تھے”(work
done) کام ہوگیا“ انگریزی کے یہ دو حروف پڑھ کر نگین نے چونک کر انوشہ
کو دیکھا جس کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا۔
”کونسا کام؟ اور یہ کون ہے؟“ نگین کے اندر کچھ کھٹکا تھا۔ جیسے اسے
کچھ محسوس ہوا ہو۔ کچھ پراسرار سا۔
”کچھ نہیں اور کوئی نہیں۔ چلو اٹھو عبایا پہنو آج ہم باہر لنچ کریں گے۔ اٹھو فوراً
اٹھو۔“ تیزی سے بات پلٹتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور جلدی جلدی نگین کو بھی کھڑا
کیا۔ وہ کچھ چھپا رہی تھی۔ لیکن کیا؟
”سر آپ کو اس طرح اکیلے نہیں جانا چاہیے۔ آپ چاہے پوری ٹیم نہ لے
کر جائیں لیکن کم سے کم مجھے لے کر جائیں۔“ عارف آدھے گھنٹے سے اسے قائل کرنے کی
کوشش کر رہا تھا جو سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔ اسے صبح ہی ایک کال موصول ہوئی تھی۔
جس میں کسی نے ہائی وے کیس کے حوالے سے ٹپ دی تھی۔ اور اسے ملنے بلایا تھا۔ وہ
اکیلا جانا چاہتا تھا لیکن عارف اسے روک رہا تھا کہ یہ قاتل کی چال بھی ہو سکتی
ہے۔
”کچھ نہیں ہوتا عارف ۔ اگر مجھے ہی مجرموں سے حفاظت کی ضرورت پڑے
گی تو میں خود کیا خاک قابل ہوں گا ملک کی حفاظت کے لیے۔ تم کیوں میری قابلیت پر
شک کر رہے ہو؟“ آخر میں میرین کچھ غیر سنجیدگی سے کہنے لگا تو عارف نے ناراض نظروں
سے دیکھا۔ آج اس کا مزاج بہت اچھا معلوم ہو رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ قاتل
تک بس پہنچ ہی گیا ہو۔
”میں آپ کی قابلیت پر شک نہیں کر رہا لیکن اس بات کو آپ بھی مانیں
گے۔ ایک ساتھ بہت سے لوگوں کا مقابلہ کرنا اکیلے آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ آپ
کوئی بھارتی فلم کے ہیرو تھوڑی ہیں۔ یہ اصل زندگی کا اصل کیس ہے۔ اس میں مار بھی
اصل ہی پڑتی ہے۔“ عارف قدرے منہ بسور کر کہتا کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا۔ انداز صاف
واضح کرتا ہوا تھا کہ اکیلے تو آپ کو جانے نہیں دوں گا۔
”کیا بات ہے عارف کہیں محبت تو نہیں ہو گئی مجھ معصوم سے؟“ میرین
نے شرارت سے کہا تو عارف کی آنکھیں اور منہ بیک وقت دونوں کھلے۔ اتنے خوش مزاج
ہمارے ایس پی صاحب کہاں نظر آتے ہیں؟ حیرت بجا تھی۔
”ایک تو آپ خود کو معصوم کہہ رہے ہیں اوپر سے مزاق بھی کر رہے ہیں۔
سر یا تو میں دن دیہاڑے خواب دیکھ رہا ہوں یا آپ کی یاد داشت چلی گئی ہے۔“ وہ
حیران نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ اتنا سخت پولیس آفیسر اور اچانک اتنے اچھے مزاج۔
”ارے تم نے تو مجھے کوئی خون چوسنے والا ویمپائر ہی سمجھ لیا ہے۔
میں بس نظم و ضبط قائم رکھنے پر سختی کرتا ہوں باقی میں بھی بشر ہوں مزاج بدلتے
رہتے ہیں۔“ میرین نے مسکراتے ہوئے کہا اور نیلے رنگ کی فائل لے کر کھڑا ہوا تو
عارف بھی اٹھ گیا۔
”میرے لیے یہ نئی بات ہے۔ آپ کو ایسے ہنسی مذاق کرتے دیکھنا۔“
میرین اس کی بات پر نیچے چہرہ جھکا کر دھیما سا ہنس پڑا۔ عارف کے دل نے کہا تھا وہ
واقعی ہنستے ہوئے بہت خوبصورت لگتا ہے۔ ہنستے ہوئے اس کی گہری آنکھیں کناروں سے
چھوٹی ہو کر اور زیادہ سیاہ گہری لگتی تھیں اوپر سے گھنی پلکیں کاجل کا حسن چڑھاتی
تھیں۔ بلوچستان کی خوبصورتی اس میں پوری طرح نظر آتی تھی۔
”ایسا کرو تم چل لو میرے ساتھ لیکن میرا حکم بجا لانا ہوگا۔ وہاں
جا کر اپنی مت چلانے لگ جانا۔“ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے میرین نے ہتھیار ڈالے تھے۔
”السلام علیکم!“ وہ اس ریستوران کے پیچھے بنے پارکنگ ایریا میں
کھڑا تھا جب نسوانی آواز سن کر پیچھے مڑا۔ عارف کو اس نے گاڑی میں بیٹھے رہنے کا
حکم دیا تھا۔ وہ ریستوران کے سامنے کی طرف گاڑی میں تھا جبکہ میرین ریستوران کے
پچھلے حصے کی طرف اکیلا چلا آیا۔ وہ پیچھے مڑا تو دیکھا سیاہ ابائے میں خود کو
پوری طرح ڈھانپے ایک لڑکی اسی کی طرف متوجہ تھی۔ وہ اسے پہچان گیا تھا۔ اور پھر
بری طرح الجھ بھی گیا تھا۔ کیا یہ قاتل ہے؟ یا گواہ؟
”نہ میں قاتل ہوں اور نہ ہی گواہ۔ میں بس ایک ذریعہ ہوں۔“ اس کے
چہرے کے تاثرات سمجھتے اس نے فوراً وضاحت کی اور ہاتھ میں پکڑا ایک سفید لفافہ اس
کی جانب بڑھایا۔ میرین بری طرح چونکا تھا۔ وہ وہی تھی۔ وہ آواز پہچان گیا تھا۔
”اس میں وہ سب ہے جو ہائی وے کیس میں قاتل تک پہنچنے کے لیے ضروری
ہے۔ میں چاہتی ہوں آپ جلد از جلد اس کیس کو بند کریں کیونکہ آپ کے لیے ایک اور کیس
منتظر ہے۔ اس ملک کے لوگوں کو آپ جیسے ایماندار افسر کی ضرورت ہے۔“ وہ ٹھہرے ہوئے
لہجے میں کہتی اسے لفافہ پکڑا کر جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس چلی گئی۔ لیکن میرین
کو الجھا گئی تھی۔
وہ دونوں
دعا ریستوران میں داخل ہو کر بائیں جانب ایک خالی تخت پر بیٹھ گئیں جو قدرے کونے
میں تھا۔ تھوڑی دیر یہاں وہاں کی باتیں کرنے کے بعد انہوں نے کھانا منگوایا۔ انوشہ
کو ہاتھ دھونے تھے اس لیے وہ اٹھ کر چلی گئی۔ تھوڑی دیر میں جب واپسی ہوئی تو نگین
کو فون کان سے لگائے دیکھا۔ وہ دوسری طرفین کی بات بہت غور سے سن رہی تھی۔
ریستوران ڈھابہ کے طرز پر بنا ہوا تھا۔ بڑے بڑے تخت بچھے تھے جن پر قالین بچھا ہوا
تھا اور گاؤں تکیے رکھے ہوئے تھے۔ انوشہ نے کھانا اپنی پلیٹ میں ڈالا اور کھانے
لگی۔
”اتنا بھی کیا ضروری ہے آج کے آج جانا۔ آپ کو کوئی کام ہے تو آپ کر
آئیں پھر دو دن بعد مجھے لے جائیے گا۔“ اس کے ناک چڑھا کر فرمائش کرنے پر دوسری
طرف میرین نے موبائل کو کان سے ہٹا کر گھورا۔ اتنی دیر سے جو وہ بتا رہا تھا اس کا
یہ اثر ہوا تھا۔ وہ اپنا سر دیوار میں کیوں نہیں مار لیتا۔ کم سے کم کچھ ہوتا تو۔
”محترمہ میں آپ کا ڈرائیور نہیں ہوں۔ جو آپ کو آپ کی مرضی کے مطابق
لانا لے جانا کروں گا۔ ناکو نے کہا ہے کہ آپ کو خود چھوڑنے آؤں اسی لیے لے جانے پر
مجبور ہوں۔ ورنہ کراچی سے بہت سی پبلک ٹرانسپورٹ ہیں جو کوئٹہ تک جاتی ہیں۔“ میرین
نے تحمل سے اس کی طبیعت صاف کی جس پر نگین کا پارہ چڑھ گیا۔ ”آخر سمجھتا کیا ہے یہ
خود کو۔ آیا بڑا کہیں کا گلفام جس کے ساتھ میں جانے کے لیے مر رہی ہوں۔“ نگین نے
دل میں اسے خوب سنائی لیکن جب جوابی کاروائی کی تو کچھ یوں کہا۔
”اچھا۔ ٹھیک ہے۔ اس بات کا جواب اب میں آپ کے ناکو سے ہی طلب کروں
گی۔ مجھے آپ اپنے اوقات بتا دیں۔“ جس طرح چبا چبا کر نگین نے کہا تھا انوشہ کہ حلق
میں نوالہ پھنس گیا۔ اس کی آخری بات تو تابوت کی آخری کیل تھی۔ ایسا لگتا تھا پوچھ
رہی ہو آپ کی اوقات کیا ہے۔ دوسری طرف اس کا جواب سن کر میرین نے بے ساختہ لب
بھینچے اور اپنے غصے پر قابو کیا۔ وہ بچہ نہیں تھا جو اس کے آخری جملے کو سمجھ نہ
پاتا۔ بعد میں اس کی طبیعت صاف کرنے کا مصمم ارادہ کرتا وہ اسے نکلنے کا وقت بتانے
لگا اور کچھ بھی سنے بغیر کال بند کر دی۔
”یہ ایس پی اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے یار۔میں اس کا قتل کردوں گی۔“
نگین نے فون کی ٹوں ٹوں سن کر حیرت سے موبائل سامنے کیا اور دانت پر دانت جما کر
کہا۔ جیسے دانتوں کے بیچ میں میرین ہو۔
”کیا ہو گیا ہے۔ ایک تو وہ بیچارہ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر
تمہیں چھوڑنے جا رہا ہے جبکہ یہ اس کی ذمہ داری بھی نہیں ہے اوپر سے تم اسی کو
باتیں سنا رہی ہو۔“ انوشہ نے عام سے انداز میں کہا۔ اس وقت وہ نگین کو سب سے زیادہ
بری لگی۔
”انوشہ تم اپنی دوست کو چھوڑ کر اس بںدر کی سائیڈ لے رہی ہو؟“ نگین
نے ازحد افسوس سے کہا۔ بندر لفظ پر ایک بار پھر اسے پھندا لگا۔ وہ کھانستے کھانستے
دہری ہو گئی۔
”تم پاگل ہو؟ اتنا خوبرو، وجیہہ ایس پی تمہیں بندر لگتا ہے؟ بہن
کیوں تم میری محنت پر پانی پھیر رہی ہو؟ اس سے اچھا میں کیا لکھتی اسے“ انوشہ نے
حیرت سے کہا۔ اس کا تو دل ہی بھر آیا تھا میرین کے حوالے سے اس کے خیالات سن کر۔
”بکو مت۔ مجھے ابھی نہیں جانا یار۔ ایک دن ابھی بھی باقی ہے میرا۔
یہ آدمی مجھے سکون سے جینے کیوں نہیں دیتا؟“ وہ جزباتی ہو رہی تھی۔ انوشہ اور
لائبہ کے ساتھ اس نے بہت مزے کیے تھے۔ اب اپنی دوستوں کو چھوڑ کر جانے کا دل ہی
نہیں کر رہا تھا۔
”زیادہ جزباتی مت ہو۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میرین بھائی نے تمہیں
توپ کے آگے کھڑا کر دیا ہو۔“ انوشہ نے آنکھیں گھمائی۔ نگین نے اسے ناراضگی سے
دیکھا۔
پھر چھوٹی
چھوٹی باتوں کے درمیان کھانا کھا کر وہ دونوں ریستوران سے نکلیں۔
اپنے مختصر
سے سامان کی پیکنگ کر کے وہ تیاری کرنے لگی۔ انوشہ کے گھر والے اس کے آنے پر بہت
خوش ہوئے تھے۔ اب وہ جا رہی تھی تو سب ہی صحن میں کھڑے ہو کر اس سے ملنے لگے۔ سب
سے سلام لیتی وہ انوشہ کے آگے کھڑی ہوئی تو دروازے پر دستک ہوئی۔ انوشہ کے بھائی
نے دروازہ کھولا تو میرین اندر داخل ہوا۔ نگین نے ناک منہ چڑھایا۔
”آئی لو یو سو مچ یار۔ میں تجھے بہت مس کروں گی۔“ نگین پانی بھری
آنکھوں سے اسے دیکھتی گلے لگ گئی۔ انوشہ کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ دونوں بہت دیر
تک گلے لگی رہیں تو بھائی کو میرین کا خیال آیا اور دونوں کو وقت کا احساس دلایا۔
”اپنا خیال رکھنا میں فون کروں گی۔“ انوشہ نے اسے الوداع کیا۔
پیچ رنگ کے
ابائے اور اسکارف میں مکمل سادگی کے ساتھ وہ آنکھوں کو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ رونے
کی وجہ سے ہوئی سرخ ناک نے میرین کی توجہ اپنی جانب کروائی۔ دل میں کہیں استحقاق
جاگا تھا۔ اپنی بے لگام آنکھوں کو لگام ڈال کر اس نے فوراً نظروں کا زاویہ بدلا۔
دوستوں سے
بچھڑنا آسان ہوتا ہے کیا؟ دل بار بار دوست کی طرف ہمکتا ہے۔ جتنا بھی وقت ساتھ
گزار لیں دل ہی نہیں بھرتا۔ دوستوں کے ساتھ زندگی جتنی آرام دہ اور آسان لگتی ہے
وہ اور کسی کے ساتھ نہیں لگتی۔ نگین جانتی تھی اتنے سال بعد ایک ہفتے کے لیے ملے
تھے اور اب دوبارہ ملاقات ہونا کتنا مشکل تھا۔
گاڑی اپنے
سفر پر روانہ تھی۔ وقفے وقفے سے سسکتی وہ ٹشو سے اپنی ناک رگڑ رہی تھی۔ سیاہ پینٹ
شرٹ پہنے میرین نے مسلسل آوازوں پر چہرہ موڑ کر اسے دیکھا جو کھڑکی سے باہر مناظر
کو غائب دماغی سے دیکھتی رو رہی تھی۔ اچانک میرین نے سڑک کے کنارے گاڑی روکی تو
نگین کو جھٹکا لگا۔ ڈیش بورڈ پر ہاتھ رکھ کے خود کو بچاتی اب سنبھل کر وہ اسے
خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
”جب چلانی نہیں آتی تو گاڑی لے کر کیوں گھوم رہے ہیں؟“ نگین نے جلے
دل سے کہا۔ رہ رہ کر نگین کو کل کا اپنا بںایا پروگرام یاد آ رہا تھا۔ دونوں
سہیلیوں نے آخری دن پر کتابوں کی نمائش دیکھنے جانا تھا۔ کتنے دل سے سارا پروگرام
ترتیب دیا تھا۔ پر ہائے رے قسمت۔ کتابوں کی شوقین نگین کے سارے خواب چکناچور ہوئے۔
وہ جو اس
کی دل جوئی کے ارادے سے گاڑی روک گیا تھا اس نے چونک کر اس کا انداز دیکھا۔
”مجھے گاڑی چلانی آتی ہے اور بہت اچھی طرح آتی ہے۔“ اپنی نرم دل
سوچ پر دو حرف بھیجتا وہ تپتے ہوئے کہہ کر دوبارہ گاڑی چلانے لگا۔ نگین نے اس کے
جواب پر غصے سے ناک چڑھائی۔
”سیٹ بیلٹ لگاؤ“ تھوڑے وقفے کے بعد میرین نے اسے کہا۔
”اچھا۔“ چبا کر کہتی وہ ضدی بچوں کی طرح بیٹھی رہی۔ سیٹ بیلٹ
باندھنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ زبردستی ایک دن پہلے اپنی سہولت سے واپس لے
کر جا رہا تھا نا اب بھگتے۔
”تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی۔ سیٹ بیلٹ لگاؤ ہم ہائی وے پر ہیں۔“
میرین نے ضبط سے سرخ ہوئے چہرے کے ساتھ کہا۔ تو نگین نے ناک چڑھائی۔ انداز باغیانہ
تھا۔
”نگین مجھے غصہ مت دلاؤ۔ سیٹ بیلٹ لگاؤ۔“ میرین نے پھر کہا۔
”میں نہیں لگا رہی۔ زیادہ مجھ پر حکم مت چلائیں۔“ نگین نے خشک لہجے
میں کہا۔ ناک ابھی بھی سرخ ہو رہی تھی۔ آنکھیں بھی رونے کی وجہ سے سوجی ہوئی اور
سرخ تھیں۔ ہونٹ کے نیچے بنا تل بھی آج غصے میں لگ رہا تھا۔ وہ ہٹ دھرمی سے بیٹھی
رہی تو میرین نے ایک سنسان جگہ گاڑی روکی اور پورا اس کی طرف گھوما۔
”میرا دماغ خراب مت کرو لڑکی۔ ناکو نے اگر مجھے ذمہ داری نہیں دی
ہوتی تو مجھے کوئی شوق نہیں تھا تم جیسی نک چڑی اور بدتمیز لڑکی کو اپنے ساتھ لانے
کا۔“ اس کی آنکھیں اس کے لہجے کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔ آنکھوں میں بہت نرم تاثر
تھا۔ وہ شاید اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔ نگاہیں تھیں کہ بغاوت
پر اتر آئی تھیں۔
”مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے آپ جیسے بدتمیز اور خودپسند شخص کے
ساتھ جانے کا اگر بابا نے نہیں کہا ہوتا تو کسی صورت آپ کے ساتھ نہیں جاتی۔“ نگین
نے بھی دوبدو جواب دیا۔ وہ پہلے ہی بھری بیٹھی تھی۔ کچھ نہ سمجھتے ہوئے میرین نے
آگے بڑھ کر تیزی سے اسکا سیٹ بیلٹ لگایا اور پیچھے ہو کر دوبارہ گاڑی چلانے لگا۔
جب کے نگین ابھی بھی منہ کھولے ہکا بکا تھی۔ مارے غصے کے اس کی سانسیں پھول رہی
تھیں۔ گاڑی میں پھر خاموشی چھا گئی۔ اچانک میرین کا موبائل بجا تو اس نے فون
اسپیکر پر ڈالا۔ نگین بھی اسی جانب متوجہ تھی۔
”السلام علیکم سر!“ عارف کی آواز گاڑی میں گونجی۔
”وعلیکم السلام! بتاؤ عارف۔“ میرین نے اجازت دی۔ جانتا تھا کہ اس
وقت یقیناً کیس کے حوالے سے کوئی بات بتانے کے لیے ہی فون کیا ہوگا۔
”سر لاش کی شناخت ہو گئی ہے۔ وہ عثمان حیدر کی بہن ہی ہے۔ ڈاکٹر
میشا نے ایک اور بات بتائی ہے۔ موت کی وجہ دم گھٹنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے
کہ جس وقت اس لڑکی کو دفنایا گیا تب.. وہ.. وہ زندہ تھی۔“ عارف نے اٹکتے ہوئے
بتایا۔ اس نے اس لڑکی کی تصاویر دیکھی ہوئی تھیں۔ معصوم سی سترہ سالہ وہ لڑکی اپنی
عمر سے بھی چھوٹی معلوم ہوتی تھی۔ چہرے پر ایسی معصومیت کے پتھر دل بھی پگھلا دے۔
کیا اس قاتل کا دل نہیں کانپا ہوگا؟
”ٹھیک ہے۔ ان ثبوتوں کو چیک کیا تم نے؟“ کچھ دیر کی اذیت ناک
خاموشی کے بعد میرین نے پوچھا۔ اس کا اشارہ سمجھ کر عارف اسے مزید بتانے لگا۔
”سر ایک اور بات۔ مجھے لگتا ہے قاتل بس ہماری پہنچ کے قریب ہی ہے۔
جلد از جلد ہمیں ایکشن لینا ہوگا۔“ عارف کا انداز سمجھتا وہ سر ہلا گیا۔ جلدی
واپسی کی یقین دہانی کرواتے ہوئے اس نے الوداعی کلمات کہے۔
”کون ایسا پتھر دل ہوگا جس نے ایک لڑکی کو زندہ دفنا دیا۔“ نگین نے
دکھ سے کہا۔ ایک دم ہی اس کے اندر بہت سا درد جمع ہونے لگا تھا۔ ایک لڑکی کی ایسی
موت کا سن کر اس کا دل کانپ گیا تھا۔
”جہاں دنیا میں انسان موجود ہیں وہیں انسانوں کی کھال میں کچھ
درندے بھی ہیں۔“ مختصر مگر جامع جواب تھا۔ وہ دونوں اپنی اپنی سوچوں میں الجھے پھر
خاموش ہو گئے۔
واپسی کے
راستے پر ایک ڈھابے پر گاڑی روک کر دونوں اترے۔ یہ کوئٹہ کے راستے پر بنا ایک
چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ دو تین ٹرک بھی ایک طرف کھڑے تھے۔ چند لوگ ہی نظر آ رہے تھے۔
رات کا وقت تھا وہ دونو پانی کی بوتل لے کر ایک کونے پر کھڑے ایک دوسرے کا منہ
دھلوا رہے تھے۔ نگین نے اس کے ہاتھ پر پانی ڈالا تو میرین نے منہ دھویا۔ آج پہلی
بار نگین نے بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھا تھا۔ ہلکا سرخ اور سفید چہرہ جس پر ہلکی
ہلکی داڑھی تھی۔ فوجی کٹ بالوں میں وہ اور بھی جازب نظر لگ رہا تھا۔ وہ منہ دھو کر
پیچھے ہوا تو نگین نے اسے بوتل پکڑائی۔ نگین منہ دھو کر فارغ ہوئی تو دونوں ایک
طرف رکھی لکڑی کی میز کے گرد بینچ پر بیٹھ گئے۔
”کیا کھاؤ گی؟“ میرین نے اسے دیکھ کر پوچھا جو چہرے سے پانی صاف
کرتی اب ماسک پہن رہی تھی۔ شام میں روتے ہوئے اسے خیال ہی نہیں رہا کہ وہ ماسک کے
بغیر ہے۔ عارف کے فون کے بعد ہی اس نے محسوس کر کے ماسک پہن لیا تھا۔
”میں صرف چائے پیوں گی۔“ شہر کے اندر داخل ہو ہی گئے تھے اس لیے اس
نے صرف چائے کا کہا۔ کھانا وہ اپنی امی کے ہاتھ کا کھائے گی جس کی فرمائش اس نے
بابا کو میسج پر کر دی تھی۔
”ٹھیک ہے۔“ اس نے جواب دے کر کھانے اور چائے کا کہا۔ دونوں خاموشی
سے چائے پی رہے تھے جب نگین نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ بظاہر چائے کی طرف
متوجہ تھا لیکن وہ اس کا دیکھنا محسوس کر گیا تھا۔
””آئی ایم سوری۔ میں شام میں بہت زیادہ جزباتی ہو رہی تھی اسی وجہ
سے آپ سے بدتمیزی کر دی۔“ نگین نے اچانک ندامت سے کہا تو میرین چونکا۔ اس کی
آنکھوں میں واقعی ندامت تھی۔
”اٹس اوکے۔ میں بھی کافی روڈ ہو گیا تھا۔“ جب وہ اپنی غلطی مان رہی
تھی تو بھلا وہ کیوں نہ معذرت کرتا۔ ویسے بھی وہ اس کے سب سے پسندیدہ انکل کی بیٹی
تھی۔ وہ اس کے بابا کے سب سے قریبی دوست تھے۔ وہ اس کی بھی تو کچھ لگتی تھی۔
”چلیں۔“ وہ دونوں واپس گاڑی میں آ کر بیٹھے اور اپنی منزل کی طرف
روانہ ہو گئے۔
عثمان حیدر
اپنے گھر کے لان میں بیٹھا تھا جب اس کا فون بجا۔
”السلام علیکم سر“ اس نے خوش اخلاقی سے کہا۔ وہ اس کی بہن کا کیس
دیکھ رہا تھا اور بہت جلد قاتل کو سامنے لانے والا تھا۔ وہ اس کے لیے بہت معزز
تھا۔
”وعلیکم السلام عثمان صاحب۔ آپ کے لیے ایک خبر ہے۔“ میرین نے سیدھا
مدعے کی بات کی۔
”میں سن رہا ہوں“ وہ فوراً ہی کرسی سے پشت ہٹا کر سیدھا ہو گیا۔
انداز میں بے چینی تھی۔
”آپ کی بہن کا قاتل ہماری حراست میں ہے۔ آپ تھانے آ جائیں۔“ میرین
نے اسے تھانے کا پتہ سمجھایا اور فون رکھ دیا۔
وہ اس وقت
تھانے میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ جب عثمان حیدر دستک دے کر اندر داخل ہوا۔ چہرے
پر ضبط کی حد واضح تھی۔ وہ کتنا تڑپا تھا اپنی بہن کے لیے۔ کتنے اپنوں کو کھویا
تھا اس نے گڑیا کے غم میں۔ وہ گڑیا تھی۔ چاہے جانے کے قابل تھی۔ اس کے ساتھ اتنا
بڑا ظلم کون کر سکتا تھا؟ پر اس پر ظلم ہوا تھا اور کسی بہت قریبی نے ہی کیا تھا۔
جسے اس بات کا زعم تھا کہ اس کے گناہ کا اس کے ظلم کا کوئی گواہ نہیں ہے۔
”آ جائیں۔“ میرین نے اسے اندر آنے کی اجازت دی اور کھڑا ہو گیا۔
پھر دونوں ساتھ ہی اس کے کمرے سے باہر نکلے اور جیل کی طرف بڑھ گئے۔
وہ اندھیرے
میں بیٹھا تھا۔ حبس زدہ سلاخوں سے بند یہ کمرہ اس کا دم گھونٹنے کے در پہ تھا۔ اس
نے یاد کیا آج صبح کا منظر جب وہ حیدر ہاؤس کے لان میں پودوں کو پانی دے رہا تھا
جب اسے ایک کال موصول ہوئی۔
”ہیلو کون؟“ اس نے فون پر انجانا نمبر دیکھا تو پوچھا۔
”آخری گواہ!“ بھاری آواز میں بس دو الفاظ کہے گئے اور اس کا سانس
سینے میں اٹک گیا۔
”میں… میں سمجھا.. سمجھا نہیں.“ اٹک اٹک کر کہتا وہ لڑکھڑایا تھا۔
اسے ایک دم ہی سانس لینے میں دشواری ہوئی تھی۔ دوسری طرف سے کال کٹ گئی اور ایک
پیغام موصول ہوا۔ جس میں ایک پتہ تھا جہاں اسے پہنچنا تھا۔ اور وہ تیزی سے دوڑتا
ہوا گھر سے باہر کی طرف بھاگا۔
منظر بدلا
اب وہ جیل میں تھا۔ اسے اسی جگہ سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں اسے بلایا تھا۔ اسی
جگہ جہاں وہ لاش ملی تھی۔
اسے یقین
نہیں آ رہا تھا کہ کیسے اس کا راز کھلا۔ اس نے اچھی طرح دیکھا تھا کوئی بھی نہیں
تھا وہاں۔ کوئی گواہ نہیں تھا۔
بار بار
آنکھوں میں اس رات کا منظر آ رہا تھا جب وہ ہلکے نیلے رنگ کے شلوار قمیض میں
ملبوس، کندھے تک آتے بالوں کو کھلا چھوڑے، ہاتھ میں کھلونے والا بھالو تھامے ہنستی
ہوئی اپنی دوست کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ جب اچانک اس کی دوست کہیں چلی گئی تو وہ اس
کے پاس لان میں آگیا۔ وہ اداس لگ رہی تھی۔ اسے ابھی اور کھیلنا تھا۔ وہ اس کے قریب
آیا تو وہ اسے دیکھ کر معصومیت سے مسکرا دی۔ اسے لگا وہ اس کے سا تھ کھیلنے آیا ہے۔
وہ کبھی کبھی اس کے ساتھ کھیلتی تھی۔ وہ معصوم تھی۔ یہ نہیں جانتی تھی کہ کون اس
کے ساتھ کھیل رہا ہے اور کون اس کی معصومیت کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے۔ لڑکیوں کی
عزت کتنی نازک ہوتی ہے نا۔ عمروں کے فرق سے بھی نہیں بچائی جا سکتی۔ درندے نہ عمر
دیکھتے ہیں اور نہ ہی معصومیت۔
وہ اسے
کھیلنے کا لالچ دے کر پیچھے کے دروازے سے گھر سے باہر لے آیا تھا۔ اور اس کے بعد
اسے بہت سے کھلونے دلائے۔ ایک پل کے لیے دل میں اس کی معصومیت دیکھ کر خوف بھی آیا
تھا لیکن شیطان اس پر غالب آ گیا اور وہ اسے لیے سنسان علاقے کی طرف چل پڑا۔ وہ
روتی رہی، چیختی رہی، سسکتی رہی لیکن اسے اس پر رحم نہ آیا۔ جب وہ نڈھال ہو کر
بیہوش ہو گئی تو اسے زندہ اس کے تمام سامان کے ساتھ اس سنسان سناٹے میں جنگل کے
بیچ و بیچ گاڑھ دیا۔ دفنا دیا اسے۔
”تم… تمہیں ذرا رحم نہیں آیا… تم… تم نے… تم گڑیا کہتے تھے اسے….
اپنی بہن مانتے تھے نا….“ وہ اونچا لمبا مرد پورے قد کے ساتھ زمین پر ڈھیر ہو گیا۔
اسے سمجھ نہ آئی کس کس بات پر ماتم کناں ہو؟ بہن کی موت پر؟ یا اس کی اتنی اذیتناک
موت پر؟ یا اس بات پر کہ جس پر بھروسہ کر کے اپنی بہن کی طرف سے پرسکون ہو گیا تھا
اس کے دھوکے اور فریب پر؟
کیا اپنی
بہن کسی غیر محرم کے حوالے کر کے کوئی بھائی پرسکون ہو سکتا ہے یہ سوچ کر کہ وہ
بھی اسے بہن سمجھتا ہے؟ کیا سچ میں؟
وہ جو
دھاڑیں مار کر رویا تو پولیس کے عملے سے بھی سنبھالا نہ گیا۔ وہ تو سمجھے تھے کہ
وہ اس شاکر اسلم کی درگت بنائے گا لیکن یہاں تو اس کے لیے رونے کو بہت غم تھے۔ اس
کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے والا اس کا بھروسے مند آدمی تھا۔
اس کیس سے
ایک بات تو سمجھ آتی ہے کہ اپنے گھر کی عورتوں کے معاملے میں کسی غیر مرد پر
بھروسہ کرنا سراسر بیوقوفی ہے۔ کوئی بھی منہ بولا بھائی، باپ، چاچا سگا نہیں ہوتا۔
گھر کی عورتیں گھر کے اندر بھی غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔
یہ بات
صیغہ راز میں ہی رہ گئی کہ اس لاش کی جگہ کس نے بدلی؟ کیسے بدلی؟ کب بدلی؟ اور
کیوں بدلی؟
جس بات کا
گواہ اللہ ہے تو پھر اس کا گواہ کوئی انسان نہ بھی ہو تو فرق نہیں پڑتا۔ بندوں کے
لیے اللہ ہی گواہ کافی ہے۔
کیا اب آپ
نگین اور میرین کی کہانی جاننا چاہتے ہیں؟
پر یہ
کہانی تو گواہ کی تھی۔ ان دونوں کی کہانی کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔
کیا خیال ہے؟ 😉
دعاؤں کی
طلبگار آپ کی لکھاری انوشہ محمد رفیق آرزو۔

Comments
Post a Comment